اسرائیل نے گریٹا تھنبرگ سمیت فلوٹیلا کے مزید 171 ارکان کو ڈی پورٹ کردیا، مشتاق احمد شامل نہیں
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسرائیلی حکومت نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والی گلوبل صمود فلوٹیلا کے مزید 171 ارکان کو ملک بدر کر دیا۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے فلوٹیلا کو بین الاقوامی پانیوں میں روک کر اس پر موجود تمام افراد کو حراست میں لیا تھا۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ ڈی پورٹ کیے گئے کارکنوں کو یونان اور سلوواکیہ منتقل کر دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ملک بدر کیے گئے افراد کا تعلق یونان، اٹلی، فرانس، آئرلینڈ، سویڈن، پولینڈ، جرمنی، بلغاریہ، لیتھوانیا، آسٹریا، لکسمبرگ، فن لینڈ، ڈنمارک، سلوواکیہ، سوئٹزرلینڈ، ناروے، برطانیہ، سربیا اور امریکا سمیت مختلف ممالک سے ہے۔
پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی فلوٹیلا کے وفد کا حصہ تھے اور وہ تاحال اسرائیلی حراست میں ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی حکام 450 سے زائد گرفتار کارکنوں میں سے 170 افراد کو پہلے ہی ڈی پورٹ کر چکے ہیں۔
اسرائیل سے وطن واپس پہنچنے والے متعدد امدادی کارکنوں نے حراست کے دوران بدسلوکی اور سخت رویے کے انکشافات کیے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔