اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے سعودی شوریٰ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ بن محمد بن ابراہیم الشیخ نے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی تعاون، خطے کی صورتحال اور مسلم امہ کے اتحاد پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

قومی اسمبلی سیکرٹیریٹ کے مطابق ملاقات کے دوران اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات عقیدے، بھائی چارے اور اعتماد پر مبنی ہیں ، سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کا مخلص دوست ہے، پارلیمانی تعاون دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، پاکستان اور سعودی عرب کے مابین سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ دوستی، اعتماد اور علاقائی امن کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ سٹریٹجک معاہدہ پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز اور باعث فخر ہے، معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان دیرپا شراکت داری اور ترقی کے نئے باب کا آغاز ہے۔

اسپیکر سردار ایاز صادق نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان، ولی عہد محمد بن سلمان، سپیکر مجلس شوریٰ ڈاکٹر عبداللہ آل الشیخ اور سعودی عوام کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان-سعودی تعلقات مشترکہ مذہبی، اخلاقی اور سماجی اقدار پر مبنی ہیں۔

انہوں نے سعودی قیادت کو ’’خادمین حرمین شریفین‘‘ کے کردار پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب مسلم امہ کی عظیم ثقافتی اور اخلاقی وراثت کے تحفظ میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

پاکستان-سعودی سٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط تاریخی سنگ میل ہے۔

اسپیکر سردار ایاز صادق نے سعودی شاہ سلمان، ولی عہد محمد بن سلمان اور سپیکر مجلس شوریٰ ڈاکٹر عبداللہ آل الشیخ کو معاہدے پر مبارکباد دی اور کہا کہ سعودی قیادت نے ہمیشہ مسلم امہ کے اتحاد اور عالمی امن کے لیے موثر کردار ادا کیا ہے، خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا وژن امہ کی فلاح اور ترقی کی علامت ہے۔

اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے سعودی عرب کا قائدانہ اور مثبت کردار قابل ستائش ہے ، پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اسے حرمین شریفین کی حفاظت کی ذمہ داری ملی ہے، سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن ایک صفحہ پر ہیں، پاک-بھارت جنگ میں سعودی عرب کی جانب سے اظہار یکجہتی پر مشکور ہیں، مسئلہ کشمیر پر سعودی عرب کی پاکستان کے موقف کی تائید قابل ستائش ہے، تمام بین الاقوامی فورمز پر پاکستان اور سعودی عرب یکساں موقف کے حامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین شوریٰ کونسل ڈاکٹر عبداللہ محمد بن ابراہیم الشیخ کو پاک-سعودی تعلقات کے فروغ کیلئے ان کی کاوشوں کے اعتراف میں پاکستان کا سب کا بڑا سول ایوارڈ کل دیا جائے گا۔

چیئرمین سعودی شوریٰ ڈاکٹرعبداللہ بن محمد بن ابراہیم الشیخ نے سپیکر کے پرتپاک استقبال اور میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان کا دورہ کر کے دلی خوشی محسوس کر رہا ہوں، پاکستان اور سعودی عرب ہر شعبے میں ساتھ ساتھ ہیں، پاکستان کے ساتھ تعلقات وقت کے ساتھ مزید بہتر ہوتے جا رہے ہیں، دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کو بہت قریب لایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے، پاکستان کی پارلیمان اور سعودی شوریٰ کے مابین تعلقات میں وسعت کی ضرورت ہے، پاکستان اسلامی دنیا کا اہم ملک ہے، سعودی عرب پاکستان کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کو کلیدی اہمیت حاصل ہے، امہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مسلم ممالک میں اتحاد اور یکجہتی ناگریز ہے۔

دونوں رہنمائوں نے مسلم امہ کے اتحاد، علاقائی تعاون اور اقتصادی شراکت داری کے فروغ پر زور دیا اور کہا کہ دونوں برادر ممالک کی پارلیمانوں میں رابطوں کے فروغ سے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

ملاقات میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی بھی شریک تھے۔ ملاقات میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفی شاہ ، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، اراکین قومی اسمبلی سید حفیظ الدین، زیب جعفر، ملک عامر ڈوگر، سحر کامران، مجاہد علی اور نور عالم خان بھی شریک ہوئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسپیکر سردار ایاز صادق نے پاکستان اور سعودی عرب انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبداللہ قومی اسمبلی پاکستان کے اور کہا کہ کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن