اسلام آباد: پاکستان کے پاور سیکٹر میں ایک بار پھر مالی بحران نے سر اٹھا لیا ہے اور حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مقرر کردہ 200 ارب روپے کے گردشی قرضے کے ہدف کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیاہے کہ رواں مالی سال کے دوران بجلی کے شعبے میں مجموعی طور پر 535 ارب روپے کے اضافی نقصانات کا امکان ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ہیں۔ ان نقصانات کی سب سے بڑی وجوہات لائن لاسز، ناقص وصولیاں اور پاور کمپنیوں کی غیر تسلی بخش کارکردگی بتائی جا رہی ہیں۔

پاور ڈویژن کے مطابق صرف بلوں کی کم وصولیوں کی وجہ سے 260 ارب روپے کا نقصان متوقع ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً دو گنا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔  علاوہ ازیں بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں موجود تکنیکی خامیوں کے سبب مزید 276 ارب روپے کے نقصانات سامنے آ سکتے ہیں۔

ان اعداد و شمار نے آئی ایم ایف کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ عالمی ادارہ چاہتا ہے کہ پاکستان گردشی قرضے کے اضافے کو 200 ارب روپے تک محدود رکھے، مگر پاور ڈویژن نے واضح کر دیا ہے کہ موجودہ حالات میں یہ ممکن نہیں۔

آئی ایم ایف کے نمائندوں نے پوچھا کہ اگر جولائی اور اگست میں کارکردگی بہتر رہی ، جب نقصانات 153 ارب روپے تک محدود رہے اور پچھلے سال کے مقابلے میں 37 فیصد کمی دیکھی گئی ، تو پھر باقی مالی سال میں یہ رجحان برقرار کیوں نہیں رکھا جا سکتا؟ تاہم پاور ڈویژن نے مؤقف اختیار کیا کہ بجلی چوری، بلوں کی عدم ادائیگی اور انتظامی کمزوریوں کے باعث بہتری کی گنجائش محدود ہے۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے حالیہ بجٹ میں دی گئی سبسڈی اور چند اصلاحی اقدامات کے نتیجے میں جون 2024 تک گردشی قرضے کا حجم 2.

42 ٹریلین روپے سے کم ہو کر 1.6 ٹریلین روپے تک لایا گیا، جس پر آئی ایم ایف نے اطمینان کا اظہار کیا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق اگر بجلی کے نرخ بڑھائے بغیر یا چوری اور نقصانات پر قابو پائے بغیر اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ کمی عارضی ثابت ہوگی۔

پاور سیکٹر کا بحران دراصل پاکستان کے معاشی ڈھانچے کی ایک کمزور کڑی بن چکا ہے، جو نہ صرف توانائی کی فراہمی بلکہ صنعتی پیداوار اور عام صارفین کی زندگی پر بھی براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔ مسلسل بڑھتے ہوئے نقصانات سے حکومت کے مالی اہداف بھی خطرے میں ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاور کمپنیوں کی کارکردگی بہتر نہ ہوئی اور بجلی چوری پر قابو نہ پایا گیا تو گردشی قرضے دوبارہ اسی رفتار سے بڑھنے لگیں گے، پاور ڈویژن کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم اندرونی ذرائع کے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ہفتے متوقع ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: آئی ایم ایف پاور ڈویژن ارب روپے سال کے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش