سولر پاور سے پیدا شدہ بجلی کے نرخ میں 2 روپے فی یونٹ کمی
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت) پنجاب میں سولر پاور سے پیدا ہونے والی بجلی کے نرخ میں 2 روپے فی یونٹ کمی کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت پنجاب کابینہ کے 29ویں اجلاس میں کیا گیا، جس میں دیگر اہم عوامی فلاحی اقدامات کی منظوری بھی دی گئی۔اجلاس میں سیلاب متاثرین کے لیے حتمی امدادی پیکیج کی منظوری دیتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ امدادی رقوم کے چیکس 17 اکتوبر سے تقسیم کیے جائیں گے۔ پیکیج کے تحت جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے، مستقل معذوری کی صورت میں 5 لاکھ اور معمولی معذوری پر 3 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔ مکمل طور پر منہدم ہونے والے پکے گھروں کے لیے 10 لاکھ روپے، جزوی متاثرہ گھروں کے لیے 3 لاکھ، مکمل تباہ شدہ کچے گھروں کے لیے 5 لاکھ اور جزوی نقصان کی صورت میں 1.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔