سونا بے قابو، ایک دن میں 8 ہزار 400 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار سے اوپر چلی گئی
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 اکتوبر2025ء ) ملک میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد مقامی اور عالمی مارکیٹ میں قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ تفصیلات کے مطابق آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن نے بتایا ہے کہ ملک میں فی تولہ سونا 8 ہزار 400 روپے مہنگا ہوا جس کے بعد فی تولہ سونے کی قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 178 روپے ہوگئی، اسی طرح 10 گرام سونا 7 ہزار 202 روپے مہنگا ہونے کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 64 ہزار 521 روپے کی بلند ترین سطح پر جا پہنچی ہے۔
تازہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ عالمی گولڈ مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 84 ڈالر کا اضافہ ہوا جس کے بعد فی اونس سونا 4 ہزار 39 ڈالر کا ہو گیا، عالمی منڈی میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.7 فیصد بڑھ کر 4011 ڈالر فی اونس اور امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت 4033 ڈالر فی اونس تک پہنچ چکی ہے، سونے کی عالمی قیمت میں 2025ء کے آغاز سے اب تک 53 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
(جاری ہے)
ادھر عالمی سرمایہ کاری بینک گولڈ مین سیچز(Goldman Sachs) نے سونے کی قیمت کے حوالے سے نئی پیشگوئی کی ہے، بینک نے کہا ہے کہ 2026 کے اختتام تک سونا 4ہزار 900 امریکی ڈالر فی اونس کی سطح کو چھو سکتا ہے، جو اس سے قبل دی گئی 4ہزار 300 ڈالر کی پیشگوئی سے نمایاں زیادہ ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ اگست کے آخر سے اب تک سونے کی قیمت میں 17 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ مرکزی بینکوں اور مغربی ممالک میں ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETFs) کے ذریعے مسلسل سرمایہ کاری ہے، یہ اسٹرکچرل ان فلو سونے کی بنیادی قدر میں اضافہ کر رہے ہیں، جب کہ قیاس آرائی پر مبنی سرمایہ کاری میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ گولڈ مین سیچرز(Goldman Sachs) نے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے مرکزی بینک اپنے ذخائر میں مزید تنوع لانے کے لیے 2025 سے 2026 تک سالانہ 70 سے 80 ٹن سونا خرید سکتے ہیں، جو قیمتوں میں 19 فیصد اضافے کا سبب بنے گا، اس کے علاوہ اگر امریکی فیڈرل ریزرو 2026 کے وسط تک شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کرتا ہے تو اس سے ETFs کے ذریعے سرمایہ کاری میں مزید اضافہ ہو گا، جو قیمتوں میں اضافے کی ایک اور بڑی وجہ بن سکتا ہے، اگر نجی شعبہ بھی سونے میں زیادہ سرمایہ کاری شروع کرتا ہے تو طلب میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے، جو قیمتوں کو موجودہ پیشگوئی سے بھی اوپر لے جا سکتا ہے، ماہرین کہتے ہیں کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، امریکہ، جاپان اور فرانس میں سیاسی غیر یقینی صورتحال، اور عالمی سطح پر مالیاتی نرمی کی توقعات سونے کو بطور محفوظ سرمایہ کاری مقبول بنا رہی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سونے کی قیمت سرمایہ کاری فی اونس سکتا ہے کے بعد
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔