وفاقی حکومت کا وفد صدر زرداری سے ملنے نوابشاہ پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک : پنجاب حکومت اور سندھ حکومت کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وفاقی حکومت اور مسلم لیگ ن کا وفد صدر آصف علی زرداری سے ملنے نوابشاہ پہنچ گیا۔
صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کیلئے نوابشاہ پہنچنے والے وفد میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی، اسحاق ڈار اور ایاز صادق شامل ہیں۔
حکومتی وفد صدر آصف علی زرداری کو وزیرِ اعظم شہباز شریف کا پیغام پہنچائے گا۔مسلم لیگ ن کےذرائع کے مطابق اس اہم ملاقات کے بعد سندھ اور پنجاب حکومت کے درمیان لفظی گولہ باری بند ہو جائے گی۔
پاکستان میں8 اکتوبر کو آنیوالے تباہ کن زلزلے کو 20 برس بیت گئے، خوفناک یادیں آج بھی ذہنوں پر نقش
دوسری جانب چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اہم سیاسی فیصلوں کے لیے 18 اکتوبر کو پیپلز پارٹی کا سی ای سی اجلاس طلب کرلیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی کشیدگی ختم کرنے کے حوالے سے بیان جاری کیا اور پیپلز پارٹی سے بھی توقع ظاہر کی ہے کہ وہ اختلافات کو ختم کریں گے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔