ستمبر میں ترسیلاتِ زر 3.2 ارب ڈالر رہیں، گزشتہ سال کے مقابلے میں 11.3 فیصد اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے مطابق، ستمبر 2025 کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر 3.2 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے 2.9 ارب ڈالر کے مقابلے میں 11.3 فیصد زیادہ ہیں۔
ماہ بہ ماہ بنیاد پر ترسیلات میں ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ اگست 2025 میں یہ 3.1 ارب ڈالر تھیں۔ مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں مجموعی ترسیلاتِ زر 9.
مزید پڑھیں: گزشتہ مالی سال میں ترسیلات زر ریکارڈ بلند سطح پر، وزیراعظم کا اظہار تشکر
مشیرِ خزانہ خرم شہزاد کے مطابق، حکومت کو توقع ہے کہ رواں مالی سال ترسیلاتِ زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی، جبکہ گزشتہ سال یہ حجم 38.3 ارب ڈالر رہا تھا۔
Workers’ remittances during September 2025 recorded at US$3.2 billion, showing a YoY growth of 11.3 percent.https://t.co/rPOvn9CTjf#SBPRemittances pic.twitter.com/FNdbzvImmk
— SBP (@StateBank_Pak) October 9, 2025
انہوں نے کہا کہ ترسیلاتِ زر نہ صرف بیرونی کھاتوں کو مستحکم کر رہی ہیں بلکہ لاکھوں پاکستانی خاندانوں کے لیے معاشی سہارا بھی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، ستمبر میں سعودی عرب سے سب سے زیادہ 751 ملین ڈالر موصول ہوئے، جبکہ متحدہ عرب امارات سے 677 ملین، برطانیہ سے 455 ملین، امریکا سے 269 ملین اور یورپی یونین کے ممالک سے 424 ملین ڈالر کی ترسیلات آئیں۔
الحمداللہ، ترسیلات زر میں اضافہ سفر آج بھی جاری ہے
ستمبر 2025 میں 3.2 ارب ڈالر کی ترسیلات زر پاکستان آئی ہیں
مالی سال2026 کے پہلے تین ماہ میں ترسیلات زر کا حجم 9.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے
پچھلے مالی سال کے پہلے تین ماہ میں ترسیلات زر کا حجم 8.8 ارب ڈالر رہا تھا
سہ ماہی…
— Khurram Schehzad (@kschehzad) October 9, 2025
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کا ہدف عبور، اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 5 ارب ڈالر کا تاریخی اضافہ
اسٹیٹ بینک کے مطابق، پاکستان ریمیٹنس انیشی ایٹو (PRI) 2009 سے باضابطہ مالیاتی اداروں کے ذریعے ترسیلات بڑھانے پر کام کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں مالیاتی اداروں کی تعداد 25 سے بڑھ کر 50 اور بین الاقوامی اداروں کی تعداد 45 سے بڑھ کر 400 ہو چکی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) امریکا برطانیہ ترسیلات زر سعودی عرب متحدہ عرب امارات مشیر خزانہ خرم شہزاد
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک آف پاکستان SBP امریکا برطانیہ ترسیلات زر متحدہ عرب امارات میں ترسیلات ترسیلات زر اسٹیٹ بینک کے مطابق ارب ڈالر مالی سال
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔