گنڈا پور کو کیوں ہٹایا گیا؟ صحافی کے سوال پر علیمہ خان کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
علی امین گنڈاپور نے گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی کے حکم پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے۔ جس کے بعد خیبرپختونخوا میں سیاسی گہما گہمی تیز ہوگئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایک جانب پی ٹی آئی نے نئے وزیراعلیٰ کیلئے ممکنہ طور پر سہیل آفریدی کو فائنل کرلیا ہے تو دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے بھی آج اہم اجلاس طلب کررکھا ہے۔ جس میں وزیراعلیٰ کے مقابل امیدوار کا نام فائنل ہونے کی توقع ہے۔ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان آج راولپنڈی میں اندراج مقدمہ کی درخواست پر ڈسٹرکٹ کورٹ میں پیش ہوئیں جہاں صحافی نے ان سے سوال کیا کہ علی امین گنڈاپور کو تبدیل کیا جارہا ہے۔ کیا وجہ ہے؟ جس پر علیمہ خان نے جواب دیا کہ ابھی ہم کورٹ میں جارہے ہیں۔ جانے دیں۔ دوسری جانب راولپنڈی کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں علیمہ خان پر انڈے پھینکنے کے خلاف اندراج مقدمہ کی 22 اے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ سماعت ایڈیشنل سیشن جج فرحت جبیں رانا نے کی۔علیمہ خان اپنے وکیل فیصل ملک کے ہمراہ عدالت پیش ہوئیں۔ علیمہ خان کے وکیل نے درخواست پر دلائل مکمل کرلئے۔ راولپنڈی پولیس نے پہلے ہی درخواست سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرائی ہے۔ فیصل ملک نے اپنے دلائل میں کہا کہ علیمہ خان پر انڈا پھینکنے کے واقعہ پر دہشت گردی کی دفعات لگتی ہیں۔ علیمہ خان پر انڈا پھینکنا کریمنل اسالٹ ہے۔ علیمہ خان پر انڈوں سے حملہ کرنا مکمل منصوبہ بندی تھی۔ انڈے پھینک کر خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ جس پر عدالت نے پراسیکیوشن سے دلائل طلب کرلئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: علیمہ خان پر
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔