جمعہ خطبات میں مسئلہ فلسطین کو اجاگر اور اسرائیل کی مذمت کیجائے، اسداللہ بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر نے کہا کہ ناجائز ریاست اسرائیل اور فلسطینی عوام کی نسل کشی کے خلاف پوری دنیا میں لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر و سابق ایم این اے اسداللہ بھٹو نے علمائے کرام سے اپیل کی ہے کہ وہ دس اکتوبر کو جمعة المبارک کو اپنے خطاب جمعہ میں مسئلہ فلسطین کو اجاگر اور غزہ کے مظلومین پر طوفان الاقصیٰ کے بعد دو سال سے جاری اسرائیلی انسانیت سوز مظالم کی مذمت کریں۔ اپنے ایک بیان میں اسداللہ بھٹو نے کہا کہ ناجائز ریاست اسرائیل اور فلسطینی عوام کی نسل کشی کے خلاف پوری دنیا میں لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، غزہ کو مٹی کا ڈھیر بنانے کے بعد بھوک و خوراک کو ہتھیار اور مقامی باشندوں کو ہجرت پر مجبور کرکے گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار کی جا رہی ہے، یہ سازش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جنگی جرائم میں ملوث اسرائلی وزیراعظم نیتن یاہو کا اقوم متحدہ بھی کچھ نہیں کر سکی ہے، 75 ہزار شہداء کا خون ضرور رنگ لائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپیل پر جمعہ کو سندھ بھر کی مساجد میں بھی علمائے کرام اپنے خطبات میں صہیونی جارحیت کے خلاف مذمتی قراردادیں بھی منظور کرائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔