ازا خیل ڈرائی پورٹ پر کسٹمز لیبارٹری نے کام شروع کردیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (کامرس ڈیسک ) پاکستان کسٹمز نے تجارت میں سہولت فراہم کرنے کی غرض سے ازا خیل ڈرائی پورٹ پر ایک نئی کسٹمز لیبارٹری قائم کر دی ہے۔ یہ لیبارٹری کپڑوں، پلاسٹک اور پلاسٹک سے بنی مصنوعات، خوردنی اشیاء اور رنگوں کو جانچنے کے لیے بنیادی آلات سے لیس ہے۔اس سے پہلے ان اشیا کے نمونے جانچنے کے لئے کراچی، لاہور اور فیصل آباد کی لیبارٹریوں کو بھیجے جاتے تھے جس میں کئی دن لگ جاتے تھے اور اخراجات میں اضافہ ہو جاتا تھا۔اب تقریباً 80 فیصد نمونوں کی جانچ مقامی لیبارٹری میں ہی کی جائیگی۔ازاخیل میں کسٹمز لیبارٹری کے قیام سے درآمد کنندگان کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا ہے۔ انہوں نے لیبارٹری کے فعال ہونے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے کیونکہ اس سے کلیئرنس میں کم وقت صرف ہوگا ، لاگت میں کمی آئے گی اور ڈرائی پورٹ پر مال کے رکے رہنے کا دورانیہ کم ہوجائے گا۔سرحد چیمبر آف کامرس کے صدر جنید الطاف نے بھی لیبارٹری کے قیام کو سراہا ہے۔مستند نمونوں کی فوری جانچ کی وجہ سے کسٹمز کنٹرولز میں بھی بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ، ایک جدید ترین لیبارٹری جلد ہی طورخم بارڈر اسٹیشن پر بھی آئی ٹی ٹی ایم ایس منصوبے کے تحت فعال ہو جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔