صوبائی وزیر اوقاف کی گاڑی پر فائرنگ ،بردار نسبتی اور ملازم جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹھٹھہ (نمائندہ جسارت) جمعرات کی شب کو ٹھٹھہ شہر کے مین اسٹاپ، ٹریفک چوکی کے قریب مسلح افراد نے صوبائی وزیر اوقاف، زکوات وعشر ، مذہبی امور سید ریاض شاہ شیرازی کی سرکاری گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار ان کے برادر نسبتی سید اظہار شاہ شیرازی کے ملازم راول ملاح گولیاں لگنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا، واقعے میں سید اظہار شاہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ پولیس کے ذرائع مطابق مسن برادری کے چند مسلح نوجوانوں نے گاڑی رکوانے کے معاملے پر صوبائی وزیر کے سالے اظہرشاہ سے تلخ کلامی کے بعد میں اچانک فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی کے شیشے اور باڈی کے مختلف حصے بھی گولیوں سے چھلنی ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر صورتِ حال پر قابو پا لیا۔ جاں بحق ہونیوالے نوجوان راول ملاح کی لاش کو سول اسپتال ٹھٹھہ منتقل کیا گیا۔واقعے کے بعد ایم این اے سید ایاز شاہ شیرازی، صوبائی وزیر سید ریاض شاہ شیرازی اور سابق ضلعی ناظم سید شفقت شاہ شیرازی سول اسپتال ٹھٹھہ پہنچ گئے اور واقعے کی تفصیلات معلوم کیں۔ ادھر ایم این اے ایاز شاہ شیرازی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ایک معمولی بات پر ہوا ہے اور ہمارے نوجوان اظہار شاہ کو ٹارگٹ کرنے کے لیے کیا گیا تھا تاہم اس میں ہمارے ملازم کی موت ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بگڑے ہوئے نوجوانوں پر والدین کا کوئی کنٹرول نہیں رہا ہے ۔دوسری جانب ایس ایس پی ٹھٹھہ فاروق بجارانی بھی سول اسپتال پہنچے اور شیرازی خاندان سے واقعے کی تفصیلات حاصل کی۔ ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ واقعہ بظاہر ٹریفک جام کے دوران پیش آیا ہے تاہم اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہے مزید پیشرفت کے لیے مسن برادری کے گھروں پر پولیس کے چھاپے مارے جا رہے ہیں واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی برقرار ہے اور پولیس نے شہر میں مزید نفری تعینات کر دی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے ادہر قتل کے معاملے کی تفتیش کے لیے ڈی آئی جی حیدرآباد طارق دھاریجو ٹھٹھہ پہنچے۔ انہوں نے شیرازی برادران اور ایس ایس پی ٹھٹھہ سے ملاقات کر کے واقعے کی تفصیلات حاصل کی۔شیرازی ہاو¿س ٹھٹھہ پہنچ کر شیرازی گروپ کے رہنما سید شفقت شاہ شیرازی، صوبائی وزیر سید ریاض شیرازی اور دیگر سے ملاقات کرکے واقعے کی تفصیلات معلوم کی اور اظہار شاہ شیرازی سے بھی ملاقات کر کے ملزمان کی فائرنگ سے متعلق معلومات حاصل کیں۔ اس موقع پر ڈی آئی جی حیدرآباد نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک اور بدمعاشی پر مبنی واقعہ ہے۔ ملزمان کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا اور یہاں میں خود آیا ہوں تاکہ ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنایا جا سکے، ڈی آئی جی حیدرآباد نے کہاکچھ ملزمان گرفتار بھی کیے گئے ہیں تاہم مرکزی ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں اگر گرفتار نہ ہوئے تو ان کے والدین/سرپرستوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، ڈی آئی جی حیدرآباد نے مزید بتایا ملزمان کو ہر صورت سزا تک پہنچایا جائے گا ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈی آئی جی حیدرآباد واقعے کی تفصیلات شاہ شیرازی اظہار شاہ کے بعد کے لیے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔