افغان مہمان نوازی کی قیمت اپنے خون سے اداکر رہے، وقت آگیا کہ افغان مہمان واپس جائیں: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران خان نے ہزاروں طالبان کو پاکستان لا کر بسایا اور آج بھی پی ٹی آئی دہشت گردوں سے مذاکرات کی بات کر رہی ہے۔خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں لکھا کہ افغان حکومت کے ساتھ سالوں پر محیط مذاکرات اور وفود کے کابل آنے جانے کے باوجود پاکستان میں خونریزی بند نہیں ہوئی، برسوں سے ہماری فوج اور عوام کا خون بہایا جا رہا ہے، روزانہ فوجی جوانوں کے جنازے اٹھ رہے ہیں۔خواجہ آصف نے لکھا کہ 60 لاکھ افغان مہاجرین کی 60 سال کی مہمان نوازی کی قیمت ہم اپنے خون سے ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ افغان مہمان اپنے گھروں کو جائیں اور یہ مفت بری اور محسن کشی بند کریں۔خواجہ آصف نے کہا یہ کیسے مہمان ہیں جو میزبانوں کا خون بہاتے ہیں اور قاتلوں کو پناہ میسر کرتے ہیں۔اس سے قبل قومی اسمبلی میں بھی اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے اور رعایت کو ناقابل برداشت قرار دیاتھا۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو پناہ دینے والوں کو حساب دینا ہوگا، اس سب میں کولیٹرل ڈیمج بھی ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: خواجہ آصف نے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔