نئی دہلی:خواتین صحافیوں کو افغان وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس میں شرکت سے روک دیا گیا، صحافیوں کا شدید ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
بھارت کے دورے کے دوران افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کی پریس کانفرنس نے اُس وقت شدید غصے اور تنقید کو جنم دیا جب خواتین صحافیوں کو تقریب میں شرکت سے روک دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:جے شنکر کی امیر متقی سے ملاقات، بھارت کا کابل میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان
یہ واقعہ جمعے کے روز افغانستان کے سفارت خانے میں پیش آیا، جہاں متقی نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
بھارتی میڈیا ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں نے خواتین صحافیوں کو داخلے سے روک دیا، حالانکہ تمام خواتین نے لباس کے ضابطے کا احترام کیا تھا۔
اس اقدام پر صحافیوں نے سوشل میڈیا پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام خواتین کی آزادی اور صحافتی مساوات کے منافی ہے۔
طالبان حکومت کی جانب سے خواتین پر عائد مختلف پابندیوں کے پس منظر میں اس واقعے نے ایک بار پھر عالمی سطح پر انسانی حقوق کی بحث کو تازہ کر دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان سفارتخانہ افغان وزیرخارجہ افغانستان امیر متقی بھارت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان سفارتخانہ افغان وزیرخارجہ افغانستان بھارت
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔