data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بیجنگ: چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ طرزِ عمل چین کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچانے والا ہے اور اس سے مسائل کے حل کے بجائے کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے کہا کہ امریکا نے چین کے خلاف مسلسل پابندیاں اور محدود اقدامات متعارف کروائے ہیں جن سے چین کے مفادات کو شدید نقصان پہنچا ہے، اور بیجنگ ان اقدامات کی سخت مخالفت کرتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ خود احتسابی کے بجائے امریکا نے مزید ٹیرف کی دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں، جو چین کے ساتھ معاملات طے کرنے کا درست طریقہ نہیں۔

چین کی وزارتِ تجارت نے کہا کہ وہ امریکا کے ساتھ تجارتی جنگ سے  نہیں گھبراتا جبکہ وزارتِ خارجہ نے امریکا پر زور دیا کہ وہ  اپنے غلط اقدامات کو درست کرے، دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان طے شدہ اتفاقِ رائے کی روشنی میں بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرے اور تعلقات کو پائیدار سمت میں آگے بڑھائے۔

ترجمان لین جیان نے واضح کیا کہ اگر امریکا نے یکطرفہ رویہ جاری رکھا تو چین اپنے جائز مفادات کے تحفظ کے لیے سخت اور ضروری اقدامات کرے گا۔

خیال رہےکہ  امریکی صدر نے جمعے کو اعلان کیا تھا کہ وہ چینی مصنوعات پر 100 فیصد نئے ٹیرف عائد کریں گے اور نومبر سے اہم سافٹ ویئر  کی برآمدات پر پابندی لگائیں گے۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب چین نے نایاب ارضی معدنیات کی برآمد پر نئی پابندیاں عائد کیں۔

واضح  رہے کہ چین نے حال ہی میں نایاب ارضی معدنیات کی پروسیسنگ اور مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز پر بھی نئی برآمدی پابندیاں عائد کی ہیں اور غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کے لیے پیشگی سرکاری اجازت لازمی قرار دی ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے ساتھ چین کے

پڑھیں:

تمام ترقی پذیر ممالک کیلیے امریکا کے دروازے بند،ٹرمپ نے امیگریشن مستقل روک دی

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251129-01-24
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک+خبر ایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر حملے کے بعد سخت ترین امیگریشن اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ تمام تھرڈ ورلڈ” ممالک سے ہجرت کو ’’مستقل طور پر معطل‘‘ کر رہے ہیں، جبکہ 19 ممالک سے تعلق رکھنے والے گرین کارڈ ہولڈرز کی فوری آڈٹ کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔یہ اعلان اس واقعے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں 29 سالہ افغان نژاد رحمان اللہ لاکنوال نے 2 امریکی نیشنل گارڈز پر فائرنگ کی ہے ۔ حملے کے نتیجے میں 20 سالہ سارہ بیکسٹروم ہلاک اور دوسرا اہلکار شدید زخمی ہوا۔ٹرمپ نے اپنے سخت بیان میں سابق صدر جو بائیڈن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ 2021ء میں افغانستان سے انخلا کے دوران بغیر مکمل جانچ پڑتال کے مہاجرین امریکا داخل ہوئے۔ پریس کانفرنس کے دوران جب ایک رپورٹر نے ان سے سوال کیا کہ مذکورہ حملہ آور کو ٹرمپ دور میں ہی ویزہ ملا تھا، تو ٹرمپ نے رپورٹر کو ’’احمق‘‘ قرار دیتے ہوئے سوال کو مسترد کردیا۔صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ ایسے تمام غیر شہریوں کے وفاقی فوائد ختم کریں گے، ایسے تارکینِ وطن کی شہریت منسوخ کریں گے جو امریکا کے لیے خطرہ سمجھے جائیں، اور ان تمام افراد کو ملک بدر کریں گے جو ’’مغربی تہذیب سے مطابقت نہیں رکھتے‘‘۔امریکی حکام کے مطابق19ممالک کے گرین کارڈ ہولڈرز کا مکمل سیکورٹی آڈٹ ایک ’’سخت اور جامع عمل‘‘ ہوگا۔ متاثرہ ممالک میں افغانستان، برما، چَیڈ، کانگو، ایران، لیبیا، صومالیہ، یمن، سوڈان، وینزویلا اور کئی افریقی و ایشیائی ریاستیں شامل ہیں۔واقعے کے بعد ملک میں سیکورٹی اور امیگریشن پالیسیوں پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ زخمی اہلکار اینڈریو وولف کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ روز واشنگٹن حملے میں زخمی ہونے والی خاتون گارڈ ہلاک ہوگئی جبکہ دوسرا شدید زخمی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا میں غیر قانونی طور پر آنے والے افراد مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کو حد میں رکھنے کے لیے جلد کارروائی کریں گے، کچھ دیر قبل مزید B2 طیاروں کا آرڈر دیا ہے۔ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز پر ہونے والی فائرنگ کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ واشنگٹن حکام کے مطابق امریکی اداروں نے مشتبہ حملہ آور اور اس سے منسلک افغان شہریوں کے گھروں پر چھاپے مار کر متعدد مقامات کی تلاشی لی ہے جبکہ ایف بی آئی نے ریاستِ واشنگٹن اور سان ڈیاگو میں کارروائیاںکرتے ہوئے کئی گھروں سے الیکٹرونک آلات، موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور آئی پیڈز تحویل میں لے لیے ہیں جن کا تکنیکی تجزیہ جاری ہے۔ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل کے مطابق گرفتار افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے رشتے داروں سے بھی تحقیقات کی گئی ہے، تاکہ حملے کی ممکنہ وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔اطلاعات کے مطابق رحمان اللہ اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ واشنگٹن میں مقیم تھا، 29 سالہ مشتبہ حملہ آور کی تصویر جاری کرتے ہوئے تصدیق کی گئی ہے کہ وہ ماضی میں افغانستان میں سی آئی اے کے لیے خدمات انجام دے چکا ہے۔سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلیف کے مطابق رحمان اللہ کو امریکا میں داخلے کی اجازت اسی پس منظر کی بنیاد پر دی گئی تھی۔

سیف اللہ

متعلقہ مضامین

  • ٹیرف سے جنگیں روکیں، کئی ممالک سے تعلقات مضبوط ہوئے: ڈونلڈ ٹرمپ
  • ٹرمپ نے وینزویلا کی فضائی حدود کو ’نو فلائی زون‘ قرار دے دیا
  • تمام ترقی پذیر ممالک کیلیے امریکا کے دروازے بند،ٹرمپ نے امیگریشن مستقل روک دی
  • ٹرمپ کا تھرڈ ورلڈ کے تمام ممالک سے لوگوں کی امریکا ہجرت روکنے کا اعلان
  • صنعتی بجلی کی طلب میں 25 فیصد اضافہ، ٹیرف میں کمی کی درخواست
  • تمام ترقی پذیر ممالک کے لیے امریکا کے دروازے بند، ٹرمپ نے امیگریشن مستقل روک دی
  • تیسری دنیا کے تمام ممالک سے ہجرت کو مستقل طور پر روک دوں گا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
  • نیشنل گارڈ ہلاک: غیر قانونی تارکین امریکا کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں، صدر ٹرمپ
  • سعودی ولی عہد کا اسرائیل سے تعلقات بحالی سے انکار، ٹرمپ ناراض
  • امریکا نے جنوبی افریقہ کو آئندہ جی 20 سمٹ کی دعوت واپس لے لی