پنجاب بھر میں 1492 ٹریفک حادثات میں 11 افراد جاں بحق، 1844 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 اکتوبر2025ء) ایمرجنسی سروسزڈیپارٹمنٹ نے گذ شتہ 24گھنٹوں کے دوران پنجاب بھر میں1492ٹریفک حادثات پر ریسپانڈ کیا جن میں838افراد شدید زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر نزدیکی ضلعی و تحصیل کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔1006معمولی زخمی لوگوں کو ریسکیومیڈیکل ٹیموں کے جائے حادثہ پر بروقت طبی امداد فراہم کرنے کی وجہ سے ہسپتالوں پر بوجھ بھی کم ہوا۔
ان حادثات میں زیادہ تر تعداد (76فیصد)موٹر سائیکلز حادثات کی ہے اس لیے وقت کی ضرورت ہے کہ روڈ ٹریفک حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح کو کم کرنے کے لیے ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کرتے ہوئے لائن اور لین کے نظم و ضبط کا خیال رکھیں۔ ایمرجنسی ا عداد و شمار کے مطابق ریسکیو 1122کے صوبائی مانیٹرنگ سیل کو موصول ہونے والی ایمرجنسی کالز کے مطابق ان ٹریفک حادثات میں978ڈرائیوز،75کم عمر ڈرائیور، 674 مسافراور203پیدل چلنے والے افراد متاثر ہوئے۔(جاری ہے)
اعدادو شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ251ٹریفک حادثات کی فون کالز لاہور کنٹر ول روم میں موصول ہوئیں جس میں صوبائی درالحکومت336متاثرین کے ساتھ پہلے، ملتان 111حادثات میں138متاثرین کے ساتھ دوسر ے ،فیصل آباد 94حادثات میں122متاثرین کے ساتھ تیسرے نمبرپررہا۔ واضح رہے کہ ان ٹریفک حادثات کے کل1855متاثرین میں1448مرد اور407خواتین شامل ہیں جبکہ زخمی ہونیوالوں میں334فراد کی اوسط عمر18سال سے کم1011افراد کی اوسط عمر 18سے 40سال کے درمیان جبکہ510زخمی افراد کی اوسط عمر 40سال سے زائد ہے۔ان ٹریفک حادثات کے بیشتر واقعات میں1519موٹرسائیکلز،111آٹورکشے،149کاریں،35وین،10مسافر بسیں،34ٹرک اور159دوسری اقسام کی گاڑیاں شامل ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ٹریفک حادثات حادثات میں
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔