غلہ منڈی کسی پرائیویٹ منڈی میں منتقل نہیں ہو رہی، رانا ثنا
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جڑانوالہ (آن لائن) وفاقی وزیر بین الصوبائی امور رانا ثنانے کہا ہے کہ غلہ منڈی کسی پرائیویٹ منڈی میں شفٹ نہیں ہو رہی، تاجر ذہنی سکون کے ساتھ اپنا کاروبار کریں، کوئی ادارہ یا افسر بلا جواز تنگ نہیں کرے گا۔ سابق رکن اسمبلی شیخ اعجاز احمد کی سربراہی میں انجمن آڑھتیاں غلہ منڈی کے وفد نے ملاقات کی، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے غلہ منڈی میں اپنا کام کریں گے۔مہر حامد رشید برادران ہمارے ساتھی ہیں وہ اپنا کاروبار ضرور کریں 2غلہ منڈیاں اور بنا لیں لیکن میں آپ کو یہ یقین دہانی کرواتا ہوں کہ حکومت پنجاب کو موجودہ غلہ منڈی کو شہر سے باہر شفٹ کر نے کا کوئی پروگرام نہیں ہے اور نہ ہی یہ تاثر درست ہے کہ سرکاری غلہ منڈی کسی پرائیویٹ غلہ منڈی میں شفٹ کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی ادارہ یا سرکاری ملازم آپ کو تنگ کرے آپ مجھے بتائیں یا شیخ اعجاز احمد کے نوٹس میں لائیں یہ مجھے بتائیں اس کا فوری سد باب کیا جائے گا۔ غلہ منڈی کے آڑھتی میرے لیے قابل احترام ہیں آج کے بعد پورے ذہنی سکون اور تسلی کے ساتھ اپنا کاروبار کریں۔ آڑھتیوں کے وفد نے آخر پر اہم ترین مسئلہ حل کرنے اور اپنے تاجر بھائیوں کا ہر طرح سے تحفظ کرنے اور ساتھ دینے پر رانا ثنا اللہ کا شکریہ ادا کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔