جعلی خبروں اور جھوٹے بیانیوں کے پھیلاؤ پر حکومت کا سخت ایکشن
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد ( آن لائن) تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے حالیہ واقعے کے بعد جعلی خبروں، ڈیپ فیک ویڈیوز اور جھوٹے بیانیوں کے پھیلاؤ پر حکومت نے سخت ایکشن کا اعلان کرتے ہوئے فیک نیوز نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق پی سی سی آئی اے کے تحت مرکزی کرداروں کی فہرست تیار کر لی گئی ہے اور ان کے خلاف فوجداری
مقدمات درج کیے جائیں گے۔ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اور خصوصی یونٹس کی جانب سے آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں اہم گرفتاریاں متوقع ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ڈیپ فیک لیبارٹری فعال کر دی گئی ہے، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی جعلی ویڈیوز اور آڈیوز کی فارنزک جانچ کر رہی ہے۔ تمام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے کہ جعلی مواد 24 گھنٹوں میں ہٹایا جائے۔بار بار خلاف ورزی کرنے والے اکاؤنٹس کی مستقل معطلی کی سفارش کی گئی ہے۔عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ غیر مصدقہ ویڈیوز یا آڈیوز شیئر کرنے پر بھی قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔حکومتی ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز اور جھوٹے مواد پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔اوورسیز نیٹ ورکس کی ٹریسنگ شروع کر دی گئی ہے، اور سفارت خانوں کے ذریعے کارروائی زیر غور ہے۔بیرونِ ملک مقیم ملوث افراد کے خلاف ریڈ نوٹس اور قانونی کارروائی کے آپشنز پر بھی غور جاری ہے۔ٹی وی چینلز، یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا بلاگرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی خبر یا کلپ کی دوہری تصدیق کے بغیر اسے نشر نہ کیا جائے۔گمراہ کن ہیش ٹیگز اور ٹرول سیلز کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیا جا رہا ہے۔مالی معاونت فراہم کرنے والے افراد اور اداروں کی ٹرانزیکشن اسکریننگ کا عمل بھی جاری ہے۔فیک نیوز کی نشاندہی کے لیے سرکاری ہیلپ لائن 1919 کو فعال کر دیا گیا ہے، جہاں کوئی بھی شہری جعلی خبروں کی اطلاع دے سکتا ہے۔
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آپریشن سندور پر بھارت کے جھوٹے بیانات عوامی غصہ دبانے کی کوشش ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر
راولپنڈی(نیوز ڈیسک )پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارتی عسکری قیادت کے حالیہ دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں خود فریبی کی سوچ رکھنے والی قیادت کی اجارہ داری قائم ہو چکی ہے۔ پاکستان کے خلاف جعلی بیانیہ اور بیرونی پراپیگنڈا ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔
ہندوستانی قیادت کی خود فریبی، افغان صورتحال، سوشل میڈیا پراپیگنڈا اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے اہم پریس بریفنگ میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ
بھارتی آرمی چیف کے اس بیان کو ’’خود فریبی‘‘ قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’’آپریشن سندور‘‘ کے دوران بھارت نے ایک “ٹریلر” دکھایا تھا۔ ترجمان کے مطابق یہ بیان حقیقت سے بالکل دور ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر اس نام نہاد ٹریلر میں سات جہاز گر جائیں، 26 مقامات پر حملے ہو جائیں اور ایس-400 کی بیٹریاں تباہ ہو جائیں تو بھارت کیلئے یہ ٹریلر نہیں بلکہ ایک خوفناک فلم ثابت ہوگا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ سندور میں بھارتی ناکامی کے بعد مسلسل جھوٹے بیانات کا مقصد صرف اندرونی عوامی غصے کو کم کرنا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ اگر کوئی بھی ملک افغان طالبان رجیم کو فوجی ساز و سامان فراہم کرتا ہے تو یہ بالآخر دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں میں ہی جائے گا، جو خطے کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے۔
اس موقع پر انہوں نے پاکستان مخالف سوشل میڈیا مہم پر بھی سخت تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان اور اداروں کے خلاف زہریلا بیانیہ پھیلانے والے بیشتر X اکاؤنٹس بیرون ملک سے چلائے جا رہے ہیں۔ ’’پاکستان سے باہر بیٹھ کر یہاں کی سیاست اور معاشرتی معاملات میں زہر گھولا جا رہا ہے۔ یہ اکاؤنٹس لمحہ بہ لمحہ پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے میں مصروف ہیں۔‘‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جو سوشل میڈیا پاکستان کے اندر دکھائی دیتا ہے، اس کے پیچھے دراصل بیرونی قوتیں سرگرم ہیں۔
دہشت گردی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ تمام حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے کہ اس کا مستقل حل نیشنل ایکشن پلان میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے مربوط نظام قائم کیا جا چکا ہے، تاہم خیبر پختونخوا میں اس نظام کی کمی محسوس ہوتی ہے۔
’’بلوچستان میں ضلعی، ڈویژنل اور صوبائی سطح پر سٹیرنگ، مانیٹرنگ اور امپلیمنٹیشن کمیٹیاں فعال ہو چکی ہیں۔‘‘
ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ یہ غیر قانونی کاروبار دہشت گردی کی مالی معاونت کا بڑا ذریعہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آرمی، ایف سی اور صوبائی حکومت کے کریک ڈاؤن سے پہلے یومیہ 20.5 ملین لیٹر ایرانی ڈیزل پاکستان میں اسمگل ہوتا تھا، جو اب کم ہو کر 2.7 ملین لیٹر رہ گیا ہے۔
ان کے مطابق ڈیزل اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقم براہ راست بی ایل اے اور BYC جیسے گروہوں تک پہنچتی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ نیشنل ایکشن پلان کے مؤثر نفاذ کے بعد بلوچستان کے 27 اضلاع پولیس کے دائرہ اختیار میں آ چکے ہیں، جو صوبے کے 86 فیصد رقبے پر مشتمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور سیکیورٹی فورسز مقامی آبادی سے مسلسل رابطے میں ہیں، ’’روزانہ 140 جبکہ ماہانہ 4000 کے قریب عوامی انگیجمنٹس ہو رہی ہیں اور یہ اقدامات دیرپا نتائج دے رہے ہیں۔‘‘
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ان حکومتی اور سیکیورٹی اقدامات کے بغیر دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مربوط حکمت عملی اور عوامی تعاون کے باعث جلد صورتحال مزید بہتر ہوگی۔