وزیر اعظم شہباز شریف کی صدر آصف علی زرداری سے ملاقات، قومی اہمیت کے امور پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بدھ کی شام ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی جس کے دوران ملک کی دونوں اہم ترین شخصیات نے قومی اہمیت کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر آصف علی زرداری سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، داخلی و خارجی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال
وزیر اعظم کے ہمراہ ڈپٹی وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحق ڈار، وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال چودھری، وزیر بین الصوبائی رابطہ، سیاسی و عوامی امور رانا ثنا اللہ خان، وزیر داخلہ و منشیات کنٹرول سینیٹر سید محسن نقوی، وزیر قانون و انصاف و حقوق انسانی سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، سینیٹر سلیم مندوی والا، سینیٹر شیری رحمٰن اور سید نیر حسین بخاری بھی موجود تھے۔
مزید پڑھیے: کابل و قندھار پر تیر بہدف حملوں کے بعد طالبان رجیم کی درخواست پر پاکستان کا 48 گھنٹوں کے لیے سیزفائر کا فیصلہ
ملاقات کے دوران صدر اور وزیراعظم نے ملک کی موجودہ سیاسی و سیکیورٹی صورتحال، علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی حالیہ پیشرفت شامل پر تبادلہ خیال کیا جو پاکستان کے اسٹریٹجک اور اقتصادی مفادات کو متاثر کرتی ہیں۔
وزیر اعظم نے صدر کو اپنی حالیہ مصری اور ملائشیا کی سفری دوروں، بین الاقوامی رہنماؤں سے ملاقاتوں اور غزہ میں امن کے لیے کی گئی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف صدر آصف زرداری قومی اہمیت کے امور وزیراعظم شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف قومی اہمیت کے امور وزیراعظم شہباز شریف پر تبادلہ خیال شہباز شریف علی زرداری
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں