صدر الخدمت فائونڈیشن غزہ ریلیف سرگرمیاں تیز کرنے کیلیے قاہرہ روانہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(صبا ح نیوز)الخدمت فائونڈیشن پاکستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمن غزہ ریلیف سرگرمیوں میں تیزی لانے کیلیے قاہرہ روانہ ہو گئے۔ روانگی سے قبل ائرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد غزہ کے لاکھوں متاثرہ فلسطینیوں کی بحالی کیلیے جامع منصوبہ بندی ناگزیر ہے، اسی مقصد کیلیے قاہرہ کا دورہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قاہرہ میں ریڈ کریسنٹ مصر، پاکستانی سفارت خانے اور بین الاقوامی شراکت دار اداروں سے ملاقاتوں میں جاری اور مستقبل کے ریلیف و بحالی منصوبوں پر بات چیت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ الخدمت فائونڈیشن اب تک غزہ کے 361 میڈیکل اور نان میڈیکل طلبہ کی پاکستان میں میزبانی کر چکی ہے جن میں سے 49 طلبہ اپنی تعلیم مکمل کرچکے ہیں۔ حالیہ دورے کے دوران فلسطینی اسٹوڈنٹس اور تعلیمی اداروں کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی شیڈول کا حصہ ہیں تاکہ مزید طلبہ کو اکیڈمک اسکالرشپ کے تحت پاکستان لاکر ان کی مکمل کفالت کی جائے۔ ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے بتایا کہ جنگ بندی کے بعد 6 ہزار فلسطینیوں کیلیے ایک ماہ کے فوڈ پیکجز کی تیاری بھی جاری ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ الخدمت فائونڈیشن غزہ متاثرین کیلیے امدادی و بحالی سرگرمیوں کا سلسلہ ہر قیمت پر جاری رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: الخدمت فائونڈیشن انہوں نے
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔