WE News:
2026-06-03@00:43:52 GMT

سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس کیس، دلائل مکمل، سماعت پیر تک ملتوی

اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT

سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس کیس، دلائل مکمل، سماعت پیر تک ملتوی

سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس سے متعلق مختلف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس اطہر من اللہ بھی شامل تھے۔

وکیل اعجاز احمد زاہد کے دلائل مکمل

درخواست گزاران کے وکیل اعجاز احمد زاہد نے تفصیلی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر میں اس وقت 10 ٹوبیکو کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:’ سگریٹ چھوڑ دیں‘، اردوان کی درخواست پر اطالوی وزیراعظم کا دلچسپ جواب  

ان کے مطابق ایک سگریٹ کی ڈبی جس کی قیمت 173 روپے ہے، اس پر 44 روپے ٹیکس عائد ہے، جبکہ 77 روپے کی ڈبی پر بھی 44 روپے ٹیکس لگایا جا رہا ہے، یوں فی پیکٹ صرف 33 روپے منافع بچتا ہے۔

ایف بی آر کا موقف تبدیل، وکیل کا اعتراض

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایف بی آر کے وکلا نے دلائل کے دوران ایک ٹیبل پیش کی اور اپنا موقف تبدیل کر لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹوبیکو کی قیمت پاکستان ٹوبیکو کمپنی کنٹرول کرتی ہے، اور موجودہ قانونی فریم ورک میں رہتے ہوئے ان کے لیے ونڈ فال ٹیکس ادا کرنا ممکن نہیں۔

بینچ کے ریمارکس

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ہم مقدمے کے حقائق میں نہیں جائیں گے، آپ قانونی سوالات پر دلائل دیں۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ نے ٹیکس دینا ہے، وہ آپ کے نفع سے ہی ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپ سارا ٹیکس خود نہیں دیتے، جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں وہ بھی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

آئینی نکات پر گفتگو

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ 26ویں ترمیم کے بعد ہم آئینی بینچ ہیں اور تمام آئینی مقدمات دیکھنے کے پابند ہیں۔ ہم کسی آئینی سوال کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد سینیٹ میں زیادہ ٹیکنوکریٹس ہیں، اس لیے وہاں سے بہتر مشورے آ سکتے ہیں۔

ججز اور وکیل کے درمیان دلچسپ مکالمہ

جسٹس حسن اظہر رضوی نے وکیل سے کہا، ویسے آپ کی کمپنی کو داد دینی پڑے گی، اتنے کم منافع میں تین سو ملین روپے کما رہی ہے، یہ واقعی قابلِ تعریف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:برطانیہ میں ڈسپوزایبل ویپس پر پابندی کیوں عائد کی گئی؟

اس پر وکیل اعجاز احمد زاہد نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہم پر آئی ایم ایف کا دباؤ تھا۔

ایکسپورٹ اور اسمگلنگ پر سوالات

جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا اگر آپ کی سگریٹ افغانستان برآمد ہو تو پھر کیا ہوگا؟

وکیل نے جواب دیا، اگر کسی اور ملک کی سگریٹ برآمد ہوتی ہے تو میں ذمہ دار نہیں۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ مال ایکسائز افسر کے سامنے باہر جاتا ہے، اگر مالیاتی خسارہ ختم کرنا ہے تو وہاں سے کریں جہاں سے لیکج ہے۔

سماعت ملتوی

وکیل اعجاز احمد زاہد کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹوبیکو جسٹس جمال مندوخیل سپر ٹیکس سپریم کورٹ سگریٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ٹوبیکو جسٹس جمال مندوخیل سپر ٹیکس سپریم کورٹ سگریٹ وکیل اعجاز احمد زاہد جسٹس جمال کہا کہ

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور