WE News:
2026-07-24@05:01:06 GMT

سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس کیس، دلائل مکمل، سماعت پیر تک ملتوی

اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT

سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس کیس، دلائل مکمل، سماعت پیر تک ملتوی

سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس سے متعلق مختلف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس اطہر من اللہ بھی شامل تھے۔

وکیل اعجاز احمد زاہد کے دلائل مکمل

درخواست گزاران کے وکیل اعجاز احمد زاہد نے تفصیلی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر میں اس وقت 10 ٹوبیکو کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:’ سگریٹ چھوڑ دیں‘، اردوان کی درخواست پر اطالوی وزیراعظم کا دلچسپ جواب  

ان کے مطابق ایک سگریٹ کی ڈبی جس کی قیمت 173 روپے ہے، اس پر 44 روپے ٹیکس عائد ہے، جبکہ 77 روپے کی ڈبی پر بھی 44 روپے ٹیکس لگایا جا رہا ہے، یوں فی پیکٹ صرف 33 روپے منافع بچتا ہے۔

ایف بی آر کا موقف تبدیل، وکیل کا اعتراض

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایف بی آر کے وکلا نے دلائل کے دوران ایک ٹیبل پیش کی اور اپنا موقف تبدیل کر لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹوبیکو کی قیمت پاکستان ٹوبیکو کمپنی کنٹرول کرتی ہے، اور موجودہ قانونی فریم ورک میں رہتے ہوئے ان کے لیے ونڈ فال ٹیکس ادا کرنا ممکن نہیں۔

بینچ کے ریمارکس

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ہم مقدمے کے حقائق میں نہیں جائیں گے، آپ قانونی سوالات پر دلائل دیں۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ نے ٹیکس دینا ہے، وہ آپ کے نفع سے ہی ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپ سارا ٹیکس خود نہیں دیتے، جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں وہ بھی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

آئینی نکات پر گفتگو

جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ 26ویں ترمیم کے بعد ہم آئینی بینچ ہیں اور تمام آئینی مقدمات دیکھنے کے پابند ہیں۔ ہم کسی آئینی سوال کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد سینیٹ میں زیادہ ٹیکنوکریٹس ہیں، اس لیے وہاں سے بہتر مشورے آ سکتے ہیں۔

ججز اور وکیل کے درمیان دلچسپ مکالمہ

جسٹس حسن اظہر رضوی نے وکیل سے کہا، ویسے آپ کی کمپنی کو داد دینی پڑے گی، اتنے کم منافع میں تین سو ملین روپے کما رہی ہے، یہ واقعی قابلِ تعریف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:برطانیہ میں ڈسپوزایبل ویپس پر پابندی کیوں عائد کی گئی؟

اس پر وکیل اعجاز احمد زاہد نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہم پر آئی ایم ایف کا دباؤ تھا۔

ایکسپورٹ اور اسمگلنگ پر سوالات

جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا اگر آپ کی سگریٹ افغانستان برآمد ہو تو پھر کیا ہوگا؟

وکیل نے جواب دیا، اگر کسی اور ملک کی سگریٹ برآمد ہوتی ہے تو میں ذمہ دار نہیں۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ مال ایکسائز افسر کے سامنے باہر جاتا ہے، اگر مالیاتی خسارہ ختم کرنا ہے تو وہاں سے کریں جہاں سے لیکج ہے۔

سماعت ملتوی

وکیل اعجاز احمد زاہد کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹوبیکو جسٹس جمال مندوخیل سپر ٹیکس سپریم کورٹ سگریٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ٹوبیکو جسٹس جمال مندوخیل سپر ٹیکس سپریم کورٹ سگریٹ وکیل اعجاز احمد زاہد جسٹس جمال کہا کہ

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار