آسٹریلیا کی 4 بار کی اولمپک گولڈ میڈلسٹ ایری آرن ٹائٹمس نے محض 25 سال کی عمر میں تیراکی سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانی تیراکوں نے ورلڈ جونیئر سوئمنگ چیمپیئن شپ میں کئی ریکارڈ توڑ ڈالے

یہ فیصلہ نہ صرف آسٹریلیا بلکہ عالمی کھیلوں کی دنیا کے لیے بھی حیران کن ثابت ہوا، کیونکہ وہ لاس اینجلس 2028 اولمپکس میں واپسی کا ارادہ رکھتی تھیں۔

شاندار کیریئر کا اختتام

ٹائٹمس نے جمعرات کے روز اپنے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مشکل مگر خوشگوار فیصلہ ہے۔ میں نے تیراکی سے ہمیشہ محبت کی ہے، مگر زندگی میں کچھ چیزیں اب میرے لیے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔

وہ اپنے کیریئر میں آٹھ اولمپک تمغے، چار عالمی ٹائٹل اور بے شمار یادگار کامیابیاں حاصل کر چکی ہیں۔

’ریس آف دی سنچری‘ کی فاتح

ٹائٹمس نے 2024 کے پیرس اولمپکس میں 400 میٹر فری اسٹائل کے فائنل میں امریکی اسٹار کیٹی لیڈیکی اور کینیڈا کی سمر میک انٹوش کو شکست دے کر تیسرا انفرادی سونا جیتا۔

یہ مقابلہ ’ریس آف دی سنچری‘ کہلایا۔ پیرس کے بعد انہوں نے ایک سال کے وقفے کا اعلان کیا اور ورلڈ چیمپئن شپ سے دور رہ کر بطور تبصرہ نگار خدمات انجام دیں۔

صحت کے مسائل اور نئی ترجیحات

اولمپکس سے 8 ماہ قبل ٹائٹمس نے بیضہ دانیوں سے غیرمہلک رسولیاں نکالنے کی سرجری کرائی تھی۔ اس تجربے نے انہیں زندگی کی اہمیت اور کھیل سے باہر کی ترجیحات پر غور کرنے پر مجبور کیا۔

انہوں نے کہا کہ صحت کے مسائل نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ میرے لیے کیا سب سے زیادہ اہم ہے۔ میں تیراکی سے آگے بڑھ کر ذاتی زندگی میں بھی بہت کچھ حاصل کرنا چاہتی ہوں۔

آسٹریلوی تیراکی کا نمائندہ چہرہ

ٹائٹمس گزشتہ دو اولمپکس میں آسٹریلوی تیراکی کا چہرہ سمجھی جاتی تھیں۔ ان کی ریٹائرمنٹ سے ٹیم ایک ایسے قائد سے محروم ہو گئی ہے جس نے ملک کو دوبارہ تیراکی کی سپر پاور بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

’ٹرمینیٹر‘ کے نام سے شہرت

تسمانیہ میں پیدا ہونے والی ٹائٹمس نے کم عمری میں کوئنز لینڈ کا رخ کیا، جہاں کوچ ڈین باکسل کی تربیت میں انہوں نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔

2018 کامن ویلتھ گیمز میں 400 اور 800 میٹر کے خطاب جیتنے کے بعد انہیں “ٹرمینیٹر” کا لقب ملا۔

2019 میں انہوں نے لیڈیکی کو عالمی چیمپئن شپ میں شکست دے کر بین الاقوامی سطح پر اپنی پہچان بنائی۔

لیڈیکی کے ساتھ یادگار رقابت

ٹائٹمس اور لیڈیکی کے درمیان مقابلہ تیراکی کی تاریخ کے یادگار ترین ابواب میں شمار کیا جاتا ہے۔ ٹوکیو 2021 میں 400 میٹر فری اسٹائل میں ان کی جیت کو ’تاریخی پلٹ وار‘ قرار دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:کھیلوں میں عالمی ریکارڈ توڑنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، کیوں؟

ریٹائرمنٹ کے بعد لیڈیکی نے انسٹاگرام پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ ایک شاندار حریف، چیمپئن اور بہترین انسان!‘۔

نئی منزلوں کی تلاش

ٹائٹمس 200 میٹر فری اسٹائل کی عالمی ریکارڈ ہولڈر کے طور پر کھیل سے رخصت ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وہ اپنی ذاتی زندگی اور نئے اہداف کی تکمیل کے لیے پرجوش ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آسٹریلیا اولمپک گولڈ میڈلسٹ ایری آرن ٹائٹمس ٹائٹمس ٹرمینیٹر سوئمنگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا سٹریلیا اولمپک گولڈ میڈلسٹ ایری آرن ٹائٹمس ٹائٹمس ٹرمینیٹر

پڑھیں:

ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا

ارب پتی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم گروک امیجن (Grok Imagine) رواں سال کے اختتام سے پہلے قدیم یونانی رزمیہ شاہکار اوڈیسی پر مبنی ایک مکمل فلم تیار کرے گا۔ مسک کا کہنا ہے کہ یہ فلم شاعر ہومر کی اصل تخلیق کے مطابق ہوگی اور تاریخی اعتبار سے بھی زیادہ درست انداز میں پیش کی جائے گی۔

ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اے آئی کے ذریعے بنائی جانے والی یہ فلم ہومر کے اصل فن اور کہانی کی حقیقی روح کی عکاسی کرے گی۔ انہوں نے اس اعلان کے ساتھ تقریباً تین منٹ طویل ایک اے آئی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں اوڈیسیئس اور کلیپسو کے درمیان ایک منظر دکھایا گیا ہے۔

Before this year ends, Grok Imagine will make a full-length movie of The Odyssey that is historically accurate and true to the art of Homer https://t.co/bVHzUmY9WN

— Elon Musk (@elonmusk) July 22, 2026

اس سے قبل بھی ایلون مسک نے ایک صارف کی اس تجویز کی حمایت کی تھی کہ ہدایت کار میل گبسن تقریباً 100 ملین ڈالر کی لاگت سے اوڈیسی پر ایسی فلم بنائیں جس میں تاریخی طور پر درست جہاز، ہتھیار، زرہیں، کردار اور ہومر کی اصل نظم کے مکالمے شامل ہوں۔ اس تجویز پر مسک نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا تھا، ’میں تیار ہوں۔‘

دوسری جانب ایلون مسک حالیہ دنوں میں برطانوی نژاد امریکی فلم ساز کرسٹوفر نولن کی فلم اوڈیسی پر بھی سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ نولن نے ایوارڈز حاصل کرنے کی غرض سے اصل داستان میں تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے فلم کی کاسٹنگ پر بھی اعتراض اٹھایا، خاص طور پر اداکارہ لوپیٹا نیونگو کو ہیلن آف ٹرائے کے کردار میں لینے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ایک موقع پر نولن کو ’نسل پرستانہ رویہ رکھنے والا‘ فلم ساز بھی قرار دیا۔

تاہم ایلون مسک کی تنقید کے باوجود کرسٹوفر نولن کی اوڈیسی نے باکس آفس پر شاندار آغاز کیا ہے۔ باکس آفس رپورٹس کے مطابق فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں دنیا بھر سے 264.06 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس کیا، جس کے بعد اسے رواں برس کی نمایاں کامیاب فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان