چار مرتبہ کی اولمپک گولڈ میڈلسٹ تیراک کا اچانک ریٹائرمنٹ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
آسٹریلیا کی چار مرتبہ اولمپک گولڈ میڈلسٹ تیراک آریارنے ٹٹمس نے محض 25 سال کی عمر میں اچانک ریٹائرمنٹ کا اعلان کرکے مداحوں کو حیران کردیا۔
مجموعی طور پر آٹھ اولمپک تمغوں اور چار عالمی اعزازات جیتنے والی آریارنے ٹٹمس نے اپنے فیصلے کی تصدیق کردی ہے۔
آریارنے ٹٹمس نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ یہ واقعی ایک مشکل فیصلہ ہے لیکن میں اس سے واقعی خوش ہوں۔
آریارنے ٹٹمس نے مزید کہا کہ مجھے تیراکی پسند ہے، اور یہ بچپن سے ہی میرا شوق ہے لیکن ایک وقت آیا جب سوئمنگ سے بڑھ کر بھی کچھ دیکھنا پڑتا ہے، کینسر کا خوف میرے لیے ٹرننگ پوائنٹ تھا اور میں دماغی طور پر متاثر ہوئی۔
Thank you Arnie!
From Tokyo 2020 to Paris 2024, eight Olympic medals, a world record and many memories later Ariarne Titmus is retiring from competitive swimming.
Thank you for inspiring Australia and the next generation! Congratulations on an incredible career ✨????#TeamAUS pic.twitter.com/2BFFl0VA3q — AUS Olympic Team (@AUSOlympicTeam) October 16, 2025
واضح رہے کہ پیرس اولمپکس سے قبل آریارنے ٹٹمس کو کینسر کے ٹیومر کی سرجری کروانا پڑی تھی۔
آریارنے ٹٹمس 1964 کے بعد آسٹریلیا کی پہلی سوئمر تھیں جنہوں نے بیک ٹو بیک اولمپک گولڈ ایک ایونٹ میں جیتا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔