سیکیورٹی گارڈ نے خاتون کو ٹرام کے نیچے آنے سے بچا لیا، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
ترکیہ کے شہر قیصری میں ایک سیکیورٹی گارڈ کی بروقت اور حاضر دماغی کی بدولت خاتون مسافر کو ٹرام کے نیچے کچلے جانے سے بچا لیا گیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک خاتون کانوں میں ایئر بڈز لگا کر ریل ٹریک عبور کرنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہیں کہ اچانک سامنے سے ٹرام آ جاتی ہے۔ اس موقع پر سیکیورٹی گارڈ نے فوری طور پر اپنی چوکس ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاتون کو اپنی جانب کھینچ لیا، جس سے اس کا جان بچ گئی۔
ترکیہ میں سکیورٹی گارڈ نے اپنی حاضر دماغی سے خاتون کو ٹرام کے نیچے آنے سے بچا لیا pic.
— Ans (@PakForeverIA) October 16, 2025
سوشل میڈیا صارفین جہاں سیکیورٹی اہلکار کی بہادری اور فوری ردعمل کی تعریف کر رہے ہیں، وہیں خاتون کو اس بات پر تنقید کا سامنا ہے کہ اس نے بغیر دھیان دیے اور ادھر ادھر دیکھے بغیر ٹریک عبور کرنے کی کوشش کی، جس سے اس کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ترکیہ ٹرام ویڈیو وائرل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ترکیہ ویڈیو وائرل
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔