کیا جسٹس طارق محمود جہانگیری سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی سے بچ پائیں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
سپریم جوڈیشل کونسل آج اپنے اجلاس میں اعلٰی عدلیہ کے ججز کے خلاف شکایات کے ساتھ ساتھ اِسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف شکایت کا بھی جائزہ لے گی۔
30 ستمبر کو جسٹس جہانگیری کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران آئینی بینچ کے رُکن جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا تھا کہ 18 اکتوبر کو سپریم جوڈیشل کونسل اپنے اجلاس میں ججوں کے خلاف شکایات کا جائزہ لے گا۔
16 ستمبر کو اِسلام آباد ہائیکورٹ کے 2 رُکنی بینچ نے ایک عبوری حکمنامے کے ذریعے چیف جسٹس، سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں ایڈووکیٹ میاں داؤد کی درخواست پر اِسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کو کام سے روک دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخی کا فیصلہ معطل کردیا
جسٹس جہانگیری پر اِلزام تھا کہ اُنہوں نے اپنی قانون کی ڈِگری درست طریقے سے حاصل نہیں کی۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری نے جب یہ حکمنامہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تو 30 ستمبر کو سپریم کورٹ کے 5 رُکنی بینچ نے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں اِسلام آباد ہائیکورٹ کا حکمنامہ کالعدم قرار دیتے ہوئے جسٹس جہانگیری کو اپنے عہدے پر بحال کر دیا تھا۔
سپریم کورٹ کے اِس حکمنامے کی بنیاد سپریم کورٹ کا ایک پرانا حکمنامہ تھا جس کے مطابق کوئی جج کسی دوسرے جج کیخلاف کارروائی نہیں کر سکتا۔
سپریم جوڈیشل کونسلججوں کے احتساب کے لیے قائم ادارہ سپریم جوڈیشل کونسل آج جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف درخواست پر سماعت کرے گا۔ سپریم جوڈیشل کونسل آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کا احتساب کرتا ہے اور ججوں کے خلاف شکایات کا یہ واحد فورم ہے۔
مزید پڑھیں: کیسے طے کرلیا گیا کہ جسٹس طارق محمود کی ڈگری جعلی ہے؟ ڈاکٹر ریاض نے سوالات اٹھا دیے
جس میں طریقۂ کار کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل اگر کسی جج کو مِس کنڈکٹ کا مرتکب پائے تو وہ صدر پاکستان کو اُن کو ہٹانے کی سفارش کرتی ہے جیسا کہ گزشتہ برس مارچ میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف کیا گیا اور اُن کو اپنے عہدے سے ہٹایا گیا۔
آئین کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل جو چیف جسٹس اور سینیئر ججز پر مشتمل ہوتی ہے، ججوں کو صرف یہی ادارہ ہٹا سکتا ہے۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری پر کیا الزام ہے؟جسٹس طارق محمود جہانگیری پر الزام ہے کہ اُنہوں نے کراچی یونیورسٹی سے اپنی ایل ایل بی کی ڈگری اَن فیئر مینز یعنی غیر منصفانہ طریقے سے حاصل کی تھی، 16 ستمبر کو اِسلام آباد ہائیکورٹ کے 2 رُکنی بینچ نے اُنہیں ایک عبوری حکمنامے کے ذریعے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے تک کام سے روک دیا تھ۔
دوسری جانب 27 ستمبر کو کراچی یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ نے اُن کی ڈگری غلط قرار دیتے ہوئے منسوخ کردی تھی، لیکن سندھ ہائیکورٹ کے بینچ نے 3 اکتوبر کو کراچی یونیورسٹی کا فیصلہ منسوخ کردیا جبکہ اِس فیصلے سے قبل 30 ستمبر کو سپریم کورٹ جسٹس جہانگیری کو بحال کر چکی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئینی بینچ اسلام آباد ہائیکورٹ ایل ایل بی جسٹس جمال خان مندوخیل جسٹس طارق محمود جہانگیری چیف جسٹس سپریم جوڈیشل کونسل سپریم کورٹ سندھ ہائیکورٹ کراچی یونیورسٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ ایل ایل بی جسٹس جمال خان مندوخیل جسٹس طارق محمود جہانگیری چیف جسٹس سپریم جوڈیشل کونسل سپریم کورٹ سندھ ہائیکورٹ کراچی یونیورسٹی جسٹس طارق محمود جہانگیری ا سلام ا باد ہائیکورٹ کے سپریم جوڈیشل کونسل ا کراچی یونیورسٹی جسٹس جہانگیری سپریم کورٹ ستمبر کو کورٹ کے کے خلاف کی ڈگری
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔