data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مقبوضہ بیت المقدس: غزہ اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کے بعد تباہ حال غزہ شہر میں ملبہ ہٹانے کا عمل باقاعدہ طور پر شروع کر دیا گیا ہے جبکہ رفح اور کریم ابوسالم کی سرحدی گزرگاہوں سے امدادی سامان سے لدے درجنوں ٹرک غزہ میں داخل ہو گئے ہیں۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہزاروں بے گھر فلسطینی اپنی معمولی اشیاء کے ساتھ واپس غزہ شہر کی جانب لوٹ رہے ہیں،  شہر کے مختلف علاقوں میں بلڈوزر ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں تاکہ شہری اپنے گھروں کے باقی ماندہ حصوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔

غزہ کی حکام نے بتایا کہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ فضائی تصاویر کے مطابق صرف غزہ شہر میں 41 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ شہر بھر میں تقریباً 80 لاکھ مکعب میٹر ملبہ موجود ہے جسے صاف کرنے میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔

ادھر سرحدی گزرگاہوں کے کھلنے کے بعد امدادی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے،  درجنوں ٹرک خوراک، ادویات، پینے کا صاف پانی اور ایندھن لے کر غزہ میں داخل ہو رہے ہیں، روزانہ سینکڑوں ٹرکوں کے داخل ہونے کی توقع ہے تاکہ بنیادی ضروریات جلد بحال کی جا سکیں۔

دوسری جانب مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ جنگ بندی کانفرنس کی تیاریاں جاری ہیں، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، برطانوی وزیراعظم کیئراسٹارمر اور دیگر عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔

اقوام متحدہ کے نمائندے بالا کرشنن راج گوپال نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو ایک طویل اور نسلوں پر محیط عمل ہوگا۔ انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ خیموں اور عارضی رہائش گاہوں کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا نہ کرے تاکہ بے گھر فلسطینیوں کو فوری پناہ فراہم کی جا سکے۔

اسی دوران امریکی خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے غزہ کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ امن کے قیام، انسانی امداد کی فراہمی اور تعمیر نو کے عمل میں امریکا اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

خیال رہے کہ حماس کی جانب سے جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی جا رہی ہے لیکن اسرائیل نے اپنی دوغلی پالیسی اپناتے ہوئے 22 سال سے قید فلسطینی رہنما مروان البرغوثی کو رہا کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ اسرائیلی وزراء اپنی انتہا پسندانہ سوچ کے سبب صبح و شام فلسطینی عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار

الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔

مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • آسام میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 7 لاکھ بےگھر
  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل