مکہ و مدینہ منورہ میں محکمہ موسمیات کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ریاض: سعودی عرب کے مختلف علاقوں کے لیے محکمہ موسمیات کی جانب سے پیشگی الرٹ جاری کردیے گئے۔
عالمی میڈیا کے مطابق محکمہ موسمیات نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں آنے والی موسمی تغیرات کی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں درمیانی بارشیں، تیز ہوائیں، گرد و غبار اور فضائی آلودگی میں موجود ذرات کئی ریجنوں میں مختلف امراض جنم دے سکتی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جدہ اور رابغ میں گرد و غبار جبکہ الجموم، الکامل اور خلیص میں تیز ہواو¿ں کی رفتار 49 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ مدینہ منورہ کے ریجن میں المہد اور وادی الفرع کے لیے بھی موسمی انتباہات جاری کیے گئے ہیں، جہاں تیز ہوائیں چلنے کی توقع ہے۔ یہ بات بھی علم میں رہے کہ اس سے قبل بھی سعودی عرب میں محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ جس میں جازان، عسیر، الباحہ، مکہ مکرمہ اور نجران ریجن بارش کی زد میں رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔