مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں موسمی الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251018-06-23
ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی عرب میں محکمہ موسمیات کی جانب سے ملک کے 6 علاقوں کے لیے پیشگی موسمی الرٹ جاری کردیے گئے، جن میں مختلف نوعیت کی موسمی تبدیلیوں سے خبردار کیا گیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں میں ہلکی سے درمیانی بارشیں، تیز ہوائیں، اڑتی ہوئی گردوغبار اور فضا میں معلق ذرات شامل ہیں جو کئی ریجنوں میں حدِ نظر کو متاثر کر سکتے ہیں۔ موسمی الرٹ کے مطابق مکہ مکرمہ کے ریجن کے متعدد شہروں کو متاثر کرنے والی موسمی کیفیت متوقع ہے۔ جدہ اور رابغ میں گردوغبار جبکہ الجموم، الکامل اور خلیص میں تیز ہواؤں کی رفتار 49 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ مدینہ منورہ کے ریجن میں المہد اور وادی الفرع کے لیے بھی موسمی انتباہات جاری کیے گئے ہیں، جہاں تیز ہوائیں چلنے کی توقع ہے۔ اس سے قبل بھی سعودی عرب میں موسمیات کے قومی مرکز نے ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا تھا۔بیان میں کہا گیا تھا کہ جازان، عسیر، الباحہ، مکہ مکرمہ اور نجران ریجن بارش کی زد میں رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔