ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں خطرناک اضافہ، ڈبلیو ایم او
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 16 اکتوبر 2025ء) عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال زمینی ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے کو ملا جس کے نتیجے میں طویل المدتی گرمی اور موسمی شدت بھی بڑھ گئی۔
یہ اضافہ انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں کاربن کے مسلسل اخراج، بڑے پیمانے پر جنگلوں کی آگ اور زمین و سمندر میں کاربن کے انجذاب میں کمی آنے کے سبب ہوا۔
'ڈبلیو ایم او' نے کہا ہے کہ یہ صورتحال موسمیاتی تبدیلی کے ایک خطرناک سلسلے کو جنم دے سکتی ہے۔ Tweet URLادارے کے جاری کردہ 'گرین ہاؤس گیس بلیٹن' کے مطابق، زمینی ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں اضافے کی شرح 1960 کی دہائی کے مقابلے میں تین گنا بڑھ چکی ہے۔
(جاری ہے)
گزشتہ دو برس کے درمیانی عرصہ میں یہ شرح 3.5 پی پی ایم تک جا پہنچی جو کہ 1957 میں اس مسئلے کی نگرانی شروع ہونے کے بعد سب سے زیادہ سالانہ اضافہ ہے۔کاربن کے انجذاب میں کمی
فضا میں شامل ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی تقریباً نصف مقدار وہیں رہتی ہے جبکہ باقی زمین اور سمندر جذب کر لیتے ہیں۔ تاہم اب اس انجذاب کی صلاحیت کمزور ہو رہی ہے۔
بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث سمندر کے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے جبکہ خشکی پر اس کے سبب قحط سالی میں اضافہ ہو گیا ہے۔گزشتہ سال جنگلوں کی آگ اور زمین و سمندر کی انجذابی صلاحیت کمزور پڑنا فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح بڑھنے کا بنیادی سبب تھا۔ اسی وجہ سے 2024 اب تک کا گرم ترین سال رہا جس میں 'ال نینو' موسمیاتی کیفیت نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔
'ڈبلیو ایم او' کی اعلیٰ سطحی سائنسی افسر ڈاکٹر اوکسانا تارسووا نے کہا ہے کہ زمین اور سمندروں کی انجذابی صلاحیت میں کمی آنے کے باعث خدشہ ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ بڑی مقدار میں اور طویل عرصہ تک فضا میں باقی رہے گی جس سے عالمی حدت میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔
موسمی نظام کے لیے خطرہگزشتہ سال میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ نے بھی اخراج کے نئے ریکارڈ قائم کیے جو طویل عرصہ تک فضا میں برقرار رہنے والی دوسری اور تیسری سب سے بڑی گرین ہاؤس گیسیں ہیں۔
اس عرصہ میں میتھین کی سطح 1,942 پی پی بی تک پہنچ گئی جو کہ صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے 166 فیصد زیادہ ہے، جبکہ نائٹرس آکسائیڈ 338 پی پی بی پر ریکارڈ کی گئی جو کہ 25 فیصد اضافہ ہے۔
ڈبلیو ایم او' کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل کو بیریٹ نے کہا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی وجہ سے فضائی کرے میں برقرار حرارت موسمی نظام کو شدید متاثر کر رہی ہے جس کے باعث شدید موسمی کیفیات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی صرف موسمی حالات کے لیے ہی نہیں بلکہ معیشت اور معاشرتی فلاح کے لیے بھی ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ڈبلیو ایم او گرین ہاؤس کی سطح
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔