خیبرپختونخوا حکومت کی افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق وفاق کو تجاویز
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
خیبرپختونخوا حکومت کی افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق وفاق کو تجاویز WhatsAppFacebookTwitter 0 18 October, 2025 سب نیوز
پشاور (سب نیوز)خیبرپختونخوا حکومت نے افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق وفاق کو تجاویز دے دیں۔تفصیلات کے مطابق مزمل اسلم نے وفاق کو دی گئی تجویز میں کہا کہ افغان مہاجرین کی واپسی فوری واپسی سے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغان مہاجر کیمپوں میں پورا نظام ہے، بجلی، سولر اور دیگر سہولیات دی گئی ہیں، وفاقی حکومت کو بتایا ہے کہ افغان مہاجرین کو عزت کے ساتھ واپس روانہ کیا جائے۔مزمل اسلم نے کہا کہ وزیراعظم کو مختلف تجاویز دی گئی ہیں جبکہ وزیراعظم نے وفاقی وزارت داخلہ اور صوبائی حکومت کو مہاجرین واپسی کے حوالے سے طریقہ طے کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے خارجی پوائنٹس زیادہ کرنے کی سفارش کی ہے، افغان مہاجر کیمپ ختم ہونے سے تمام افغانی غیرقانونی رہائشی ہوں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹی ایل پی کے گرفتار کارکنان و قائدین کو رہا اور سیل کی گئی مساجد دوبارہ کھولی جائیں، تنظیمات اہل سنت ٹی ایل پی کے گرفتار کارکنان و قائدین کو رہا اور سیل کی گئی مساجد دوبارہ کھولی جائیں، تنظیمات اہل سنت چین، صدر کے قریبی 2اعلی جنرلز سمیت 9فوجی افسران کرپشن الزام میں برطرف مذاکرات زیادہ پرامید نہیں، طالبان حکومت ماضی میں بھی وعدوں سے مکر گئی تھی، اعزاز چودھری پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات کا پہلا دور مکمل افغانستان سمیت جو بھی حملہ کرے گا اس کو بھرپور جواب ملے گا، وزیراعلی خیبرپختونخواسہیل آفریدی جج میڈیا پر بات نہیں کرسکتا، ججز کوڈ آف کنڈکٹ میں ترمیم کی تفصیلات سامنے آ گئیںCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: افغان مہاجرین کی واپسی واپسی سے وفاق کو
پڑھیں:
طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمتی سرگرمیوں میں تیزی آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مختلف صوبوں سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق طالبان مخالف گروہوں نے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں متعدد کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے، جس سے بعض علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
رپورٹس کے مطابق ’فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے کمانڈر حامد سیفی کی قیادت میں جنگجوؤں نے 20 جولائی کو صوبہ کاپیسا کے ضلع کوہستان میں مختلف شاہراہوں پر چیک پوسٹیں قائم کیں اور اہم راستوں پر نقل و حرکت کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں پرتشدد واقعات، سابق انٹیلیجنس افسر اور قبائلی عمائدین الگ الگ حملوں میں قتل
ادھر صوبہ بدخشاں کے ضلع یفتل میں حالیہ مزاحمتی کارروائی کے بعد ضلع زیبک سے بھی طالبان مخالف حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ٹاپ خانہ کے علاقے میں طالبان کی چیک پوسٹوں کے قریب شدید جھڑپیں جاری ہیں، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق لڑائی قریبی علاقوں تک پھیلنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل ’سپاہیانِ میہن‘ نامی گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے جنگجوؤں نے یفتل میں ضلعی انتظامیہ، پولیس ہیڈکوارٹر اور انٹیلی جنس دفاتر پر قبضہ کرکے طالبان کا پرچم اتار دیا، اسلحہ، فوجی گاڑیاں اور دیگر سامان اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ بعد ازاں طالبان کی اضافی نفری پہنچنے پر علاقے کا دوبارہ کنٹرول طالبان کے ہاتھ میں آنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
تازہ رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ بدخشاں طالبان حکومت کے لیے ایک اہم دباؤ والے علاقے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں بار بار ہونے والی مزاحمتی کارروائیاں طالبان کی سیکیورٹی حکمت عملی اور صوبے پر گرفت کو چیلنج کر رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق طالبان مخالف سرگرمیاں اب صرف پنج شیر اور اندراب تک محدود نہیں رہیں بلکہ کابل، بغلان، تخار، قندوز، کاپیسا، بلخ، ہرات اور بدخشاں سمیت متعدد صوبوں میں بھی مختلف مزاحمتی گروہوں نے کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلح مزاحمت کا دائرہ بتدریج وسیع ہو رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان بدخشاں طالبان فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ