مذہب اور جنون کو ہم معنی سمجھنے والے
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251019-03-6
مغرب نے صرف مذہب کو رد نہیں کیا اس نے مذہب کے خلاف ایسا مقدمہ بھی ترتیب دیا جس کی روشنی میں مذہب جنون اور دیوانگی نظر آتا ہے۔ مغرب کے ممتاز دانشور جیمز فریزر نے اپنی کتاب ’’گولڈن بائو‘‘ میں انسانی تاریخ کو چار ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ اس کے نزدیک انسانی تاریخ کا پہلا دور جادو کا دور تھا۔ انسان نے ترقی کی تو اس نے مذہب ایجاد کرلیا لیکن انسان تھوڑا بالغ ہوا تو فلسفے کا عہد شروع ہوگیا۔ انسانوں کی بلوغت انتہا کو پہنچی تو اس نے سائنس ایجاد کرلی۔ انسان اور انسانی تاریخ کو اس تناظر میں دیکھا جائے تو مذہب انسان کے عہد ِ جاہلیت کی یادگار ہے۔ مغرب کی اس فکر کا اثر مسلم معاشروں پر بھی پڑا ہے۔ چنانچہ مسلم معاشروں کے سیکولر اور لبرل لوگ مذہب بالخصوص اسلام کو ایک جنون سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ مذہبی لوگوں کو ’’جنونی‘‘ کہتے ہیں۔ یاسر پیرزادہ کا تعلق ایک مذہبی خاندان سے ہے۔ مگر وہ آئے دن مذہبی حوالے سے معاشرے کو مطعون کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک حالیہ کالم میں اس حوالے سے کیا کہا ہے انہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے۔ یاسر پیرزادہ لکھتے ہیں۔
’’میری اکثر اپنے دوستوں سے بحث ہوتی رہتی ہے کہ کیا پاکستان میں مذہبی جنونیت پروان چڑھ رہی ہے یا اب بھی امید کی کوئی کرن باقی ہے؟ دوستوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ مذہبی انتہا پسندی بہت بڑھ چکی ہے اور ایسی سطح تک پہنچ چکی ہے جہاں سے واپسی ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ اس نقطۂ نظر سے اختلاف کرنا بے حد مشکل کام ہے خاص طور سے ایسی صورت حال میں جب مذہب کے الزام میں پرچے کاٹے جارہے ہوں، پولیس اور فوج کے خلاف نام نہاد ’’جہاد‘‘ کیا جارہا ہو اور حالات یہ ہوں کہ کسی مذہبی معاملے پر رائے دینے سے پہلے بندے کو سو مرتبہ سوچنا پڑتا ہو کہ کہیں منہ سے کوئی ایسی بات نہ نکل جائے جو کسی کو ناگوار گزرے۔ حالات کی یہ تصویر کشی کسی حد تک مبالغہ آمیز ہی سہی مگر قریب قریب درست ہے۔ لیکن اس کے باوجود میں مایوس نہیں ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بحیثیت قوم ہمارے پاس مایوس ہونے کا آپشن ہی نہیں ہے۔ مایوس نہ ہونے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ملک اتنا چھوٹا نہیں جتنا ہم نے اس کو سمجھ لیا ہے، پونے نو لاکھ مربع کلو میٹر کے اس ملک پر اگر دو چار ہزار مذہبی جنونی قبضہ کرسکتے ہوتے تو اب تک کرچکے ہوتے، لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی درست ہے کہ یہی چند ہزار لوگ جب چاہیں آدھا ملک بند کرواسکتے ہیں اور اس وقت یہی ہورہا ہے۔‘‘ (روزنامہ جنگ، 12 اکتوبر 2025ء)
یاسر پیرزادہ کو اطمینان ہے کہ مذہبیت اگرچہ جنونیت ہے مگر پاکستان میں مذہبی جنونیوں کی تعداد زیادہ نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ’’نارمل‘‘ لوگوں کی اکثریت ہے اور ان نارمل لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے یاسر پیرزادہ نے کیا لکھا ہے انہی کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے۔ وہ لکھتے ہیں۔
’’سوسائٹی کا عمومی رویہ بھی دیکھ لیتے ہیں۔ غریب کی شادی ہو یا امیر کی، مہندی ڈھولکی، ڈانس، حسب ضرورت اور حسب توفیق، ایسا ترتیب دیا جاتا ہے کہ بندے کی روح خوش ہوجاتی ہے جن لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ سب کچھ صرف بڑے شہروں میں ہوتا ہے وہ دیہات اور قصبوں کی شادیوں میں شرکت کرکے دیکھ لیں جہاں بعض اوقات مجرے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ رہی سہی کسر ٹک ٹاک اور انسٹا گرام نے پوری کردی ہے، لڑکیاں ایسی ایسی اعلیٰ ویڈیوز بنا کر اپ لوڈ کررہی ہیں کہ مجھ جیسا بندہ سوچتا ہے کہ یہ ٹیلنٹ آیا کہاں سے‘‘۔
یاسر پیرزادہ تصور کا مذہب دیکھ کر ہمیں اقبال کی ایک چھوٹی سی نظم ’’پنجابی مسلمان‘‘ یاد آگئی، نظم یہ ہے۔
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کرلے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد
تاویل کا پھندا کوئی صیاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد
یاسر پیرزادہ کا تصور ’’نارمل مسلمان‘‘ یہ ہے کہ وہ شادی بیاہ میں گانے بھی گا لیتا ہے اور ’’ڈانس‘‘ بھی کرلیتا ہے۔ یہاں تک کہ مجرے بھی کرالیتا ہے۔ یہاں تک کہ لڑکیاں اگر ٹک ٹاک پر فحش یا نیم فحش ویڈیوز اپ لوڈ کریں تو یہ بھی ایک ’’نارمل مسلمان‘‘ کے ’’ٹیلنٹ‘‘ کی نشانیاں ہیں۔ یہ تو یاسر پیرزادہ کی ’’کشادہ دلی‘‘ اور ’’مذہب پرستی‘‘ ہے ورنہ ان کا بس چلتا تو وہ لکھ دیتے کہ کبھی زنا کرلینا بھی ’’نارمل مسلمان‘‘ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ ہمارے زمانے تک آتے آتے مسئلہ یہ ہوگیا ہے کہ ہمارے سیکولر اور لبرل طبقات نے کسی بھی چیز کے ’’معیار‘‘ کو باقی نہیں رہنے دیا۔ چنانچہ نارمل مسلمان کون ہے اور کون نہیں ہے یہ بھی ایک نزاعی مسئلہ بن گیا ہے۔ چنانچہ ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم معاشرے میں اسلام کے اصل ’’معیار‘‘ کو سامنے لائیں اور پھر اپنے اعمال و افعال کو پرکھیں کہ وہ ’’نارمل‘‘ ہیں یا ’’ایب نارمل‘‘۔ چنانچہ ہمارا معیار نہ کوئی مذہبی طبقہ ہے نہ مذہبی جماعت ہمارا معیار ’’سیرت طیبہؐ‘‘ ہے۔ ’’سیرت صحابہؓ‘‘ ہے۔ ’’سیرت تابعین‘‘ ہے۔ سیرت تبع تابعین ہے۔ اکابر صوفیا اور اکابر علما کی زندگیاں ہیں۔ ان معیارات کو سامنے رکھیں تو یاسر پیرزادہ بتائیں کہ ہماری شادیوں میں جو فلمی اور نیم فلمیں گانے گائے جاتے ہیں وہ سیرت طیبہؐ کی روشنی میں ’’نارمل‘‘ ہیں یا ’’ایب نارمل‘‘؟۔ سیرت طیبہ، سیرت صحابہ اور اکابر صوفیا اور اکابر علما کی تعلیمات کی روشنی میں مجرے ’’نارمل‘‘ ہیں یا ’’ایب نارمل‘‘۔ ہماری لڑکیاں ٹک ٹاک پر جو ویڈیوز پیش کررہی ہیں وہ سیرت طیبہؐ اور سیرت صحابہؓ سے کتنی ہم آہنگ اور کتنی ’’نارمل‘‘ یا ’’ایب نارمل‘‘ ہیں؟۔
ہماری علمی اور تہذیبی زندگی میں ’’جنون‘‘ کوئی منفی لفظ نہیں۔ جنوں عشق کے ہم معنی ہے۔ اقبال نے اس لیے کہا ہے۔
خرد کی گھتیّاں سلجھا چکا میں
مرے مولا مجھے صاحب جنوں کر
چنانچہ ہم قرآن پڑھتے ہیں تو قرآن دنیا کو ’’متاعِ قلیل‘‘ کہتا ہے۔ رسول اکرمؐ نے فرمایا ہے کہ دنیا بکری کے مرے ہوئے بچے سے زیادہ حقیر ہے۔ رسول اکرمؐ کا ارشاد ہے کہ دنیا اگر مچھر کے پر کے برابر بھی اہم ہوتی تو کافروں اور مشرکوں کا اس میں کوئی حصہ نہ ہوتا۔ ہمارے زمانے میں اگر کوئی شخص قرآن و سنت کی روشنی میں دنیا کو حقیر سمجھنے لگے اور اس سے لاتعلق ہوجائے تو یاسر پیرزادہ جیسے بے بصیرت لوگ اسے ’’جنونی‘‘ کہیں گے۔ حالانکہ وہ قرآن و سنت کی سختی سے پابندی کرنے والا ہوگا۔ سیدنا عمرؓ فاروق عظیم الشان سلطنت کے حکمران تھے مگر ان کے لباس میں 17 پیوند لگے ہوئے تھے۔ اب اگر کسی مسلم ریاست کا حاکم ایسا لباس پہننے لگے تو یاسر پیرزادہ جیسے احمق کہیں گے کہ وہ ’’جنونی‘‘ ہے حالانکہ وہ عشق رسول اور عشق صحابہ میں ڈوبا ہوا ہوگا۔ عشق یا جنون کا تصور ہمارے مذہب میں اتنا اہم ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا ہے کہ نماز اس طرح پڑھو گویا تم خدا کو دیکھ رہے ہو یا کم از کم اس طرح تو پڑھو گویا خدا تمہیں دیکھ رہا ہے۔ رسول اکرمؐ نے ایسا اس لیے کہا کہ ایسی نماز ’’عشقیہ نماز‘‘ ہوگی یا ’’جنونی نماز‘‘ ہوگی۔ اسلام سکھاتا ہے کہ رسول اکرمؐ سے اس طرح محبت کرو کہ وہ تمہیں تمہاری ہر چیز سے زیادہ عزیز ہوجائیں۔ یہ ہمارے مذہب میں رسول اکرمؐ سے عشقیہ تعلق کا ایک پہلو ہے۔ عشق یا جنون ہماری تہذیب میں اتنا اہم ہے کہ اقبال کی پوری شاعری عشق کی اہمیت پر اصرار سے بھری ہوئی ہے۔ چند نمونے ملاحظہ فرمائیے۔
اقبال کس کے عشق کا یہ فیضِ عام ہے
رومی فنا ہوا حبشی کو دوام ہے
٭٭
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
٭٭
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسمِ محمدؐ سے اُجالا کردے
٭٭
باقی صفحہ7نمبر1
شاہنواز فاروقی
علم نے مجھ سے کہا عشق ہے دیوانہ پن
عشق نے مجھ سے کہا علم ہے تخمین و ظن
٭٭
عشق کی گرمی سے ہے معرکۂ کائنات
علم مقامِ صفات، عشق تماشائے ذات
دلچسپ بات یہ ہے کہ یاسر پیرزادہ اور ان جیسے لوگ مسلم معاشروں میں مذہب کو ایک لمحے میں ’’جنونیت‘‘ سے جوڑ دیتے ہیں مگر انہیں مغرب اور دیگر اقوام کی ’’جنونیت‘‘ نظر نہیں آتی۔ مغرب بظاہر ’’عقل پرست‘‘ ہے مغرب نے گزشتہ پانچ سو سال میں جو جنگیں انسانیت پر مسلط کس ہیں ان کی تفصیل مغرب کے ممتاز ماہر نفسیات ایرک فرام نے اپنی کتاب ’’The Anatomy of Human Destructivness‘‘ میں پیش کی ہے۔ سال کے اعتبار سے ان جنگوں کی تفصیل یہ ہے۔
جنگوں کی یہ تفصیل بتارہی ہے کہ انسان جیسے جیسے مذہب سے دور ہو کر سیکولرازم اور لبرل ازم کے قریب ہوتا گیا ہے اس کی ’’جنگ پسندی‘‘ یا ’’جنونیت‘‘ بڑھتی چلی گئی ہے۔ یہاں تک کہ 18 ویں، 19 ویں اور 20 ویں صدی میں اس نے سیکڑوں کی تعداد میں جنگیں ایجاد کی ہیں اور یہ تینوں صدیاں سیکولرازم اور لبرل ازم کی صدیاں ہیں۔ مگر اس کے باوجود کوئی مغرب کو ’’جنونی‘‘ نہیں کہتا۔ بیسویں صدی میں روس اور چین میں سوشلسٹ انقلابات آئے۔ روسی انقلاب میں 80 لاکھ افراد ہلاک ہوئے جبکہ چین کا سوشلسٹ انقلاب 3 کروڑ انسانوں کو نگل گیا مگر اس کے باوجود روس اور چین کو کوئی جنونی نہیں کہتا۔ امریکا کے سفید فاموں نے امریکا پے قبضے کے لیے 8 سے 10 کروڑ ریڈ انڈینز کو مار ڈالا مگر کوئی سیکولر اور لبرل آدمی امریکا کو ’’جنونی‘‘ قرار نہیں دیتا۔ امریکا نے کوریا کی جنگ میں 30 لاکھ افراد مار ڈالے مگر امریکا آج بھی ’’عقل پرست‘‘ کہلاتا ہے۔ امریکا نے جاپان پر دو ایٹم بم دے مارے جس سے 2 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے مگر امریکا کو کوئی ’’جنونی‘‘ نہیں گردانتا۔ مغربی اقوام نے سلامتی کونسل میں پانچ طاقتوں کو ویٹو پاور دے کر دنیا کو ظلم سے بھر دیا مگر ہم نے آج تک نہیں سنا کہ کسی نے مغربی طاقتوں کو جنونی قرار دیا ہو۔ البتہ اگر مسلمان اسلام سے عشق کرنے لگتے ہیں تو مغرب بھی انہیں جنونی کہنے لگتا ہے اور اس کے زیر اثر یاسر پیرزادہ جیسے لوگ بھی مسلمانوں کو جنونی اور اسلام سے گریزاں افراد کو نارمل باور کرانے لگتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تو یاسر پیرزادہ کی روشنی میں ایب نارمل رسول اکرم اور لبرل ہے کہ یہ یہ بھی اور ان ہیں کہ ہے اور اور اس
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔