اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے معاشی استحکام اور سفارتی کامیابیوں کی تاریخ رقم کی ہے۔ ملکی معیشت کے تمام اشاریے مثبت ہیں اور ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہیں، بھارت کے خلاف معرکہ حق میں پاکستان نے تاریخی فاتح حاصل کی اور بھارت کو ایسی شکست دی جسے وہ تاقیامت یادکھے گا، محنت اور لگن سے پاکستان دنیا میں وہ مقام حاصل کرے گا جس کا خواب قائداعظم اور علامہ اقبال نے دیکھا تھا۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نے جہانیاں میں رکن قومی اسمبلی چوہدری افتخار نذیر کے گھر آمد کے موقع پر سیاسی رہنمائوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں اکثریت ہے اور وفاق میں مخلوط حکومت ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور ان کی ٹیم شبانہ روز محنت کر رہی ہیں اور حالیہ سیلاب کے دوران انہوں نے بڑی محنت کی ہے۔ گذشتہ روز اسلام آباد میں اجلاس کے دوران وزرائے اعلیٰ کی موجودگی میں حالیہ سیلاب کے دوران خصوصی طور پر ڈیڑھ سال کی کارکردگی کو سراہا گیا اور وزیر اعلیٰ سندھ کی خدمات کی بھی تائید و تعریف کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز پورے پنجاب کی خدمت میں مصروف ہیں، ٹرانسپورٹ کاجال بچھایا جا رہا ہے جس سے عام آدمی کو سہولت ملے گی۔ اسی طرح صحت، تعلیم اور مواصلات کے شعبوں میں بھی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں جو قابل تعریف ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ اسی طرح ہم سب مل کر وفاق میں ملک کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نتیجہ امانت، دیانت اور خلوص نیت کیساتھ ساتھ شبانہ روز محنت سے حاصل ہوا ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے ابھی چند مہینے پہلے پاکستان کو عظیم فتح سے نوازا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ جنگ میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو فتح نصیب کی یہ اس مالک کا کرم، 24کروڑ عوام کی دعائوں اور افواج پاکستان کی دلیرانہ حکمت عملی کا نتیجہ ہے اور پاک فضائیہ، بحریہ اور بری افواج کے جری جوانوں اور افسران نے ایک تاریخ رقم کی اور ہمارے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے فرنٹ سے لیڈ کیا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہم نے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی اور جرات اور قیادت کے ذریعے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو اور ان کے شاہینوں نے وہ کامیابی کے جھنڈے گاڑھے کہ بھارت آج بھی اس شکست سے باہر نہیں نکل سکا اور قیامت تک نہیں نکل سکے گا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ اسی طرح جب ہم نے اقتدار سنبھالا، معاشی بحران کے بہت مشکل چیلنجز تھے، آئی ایم ایف کا پروگرام لینا پڑا اور الحمد اللہ پاکستان کو ڈیفالٹ سے نکالا اور آج ہماری معیشت کے اشاریے بہت بہتر ہیں، معاشی استحکام کی جانب آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی چوہدری افتخار نذیر، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وزیر مملکت عبدالرحمان کانجو، سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان، معاون خصوصی طلحہ برکی، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور جہانیاں کے معززین علاقہ بھی موجود تھے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ ن کے سینئر رکن عرفان احمد خان ڈاھا کی وفات پر تعزیت کیلئے ان کے بیٹے رکن قومی اسمبلی محمد خان ڈاھا سے ملاقات کی اور مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ مرحوم مسلم لیگ ن کے سرگرم کارکن اور ہمارے دیرینہ ساتھی تھے، ملاقات میں ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور پارٹی ٹکٹ ہولڈرز بھی شریک تھے۔ ارکان صوبائی اسمبلی رانا محمد سلیم حنیف، چوہدری عثمان فضل، سابق رکن قومی اسمبلی ملک عبدالغفار ڈوگر، ذوہیب احمد خان ڈاھا، میاں اکرام اللہ کمبوہ نائب صدر مسلم لیگ ن خانیوال بھی موجود تھے۔

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیراعظم شہباز شریف کو ملائیشیا کے وزیراعظم داتو سری انور ابراہیم نے ٹیلی فون کیا اور دو طرفہ، علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کو ہفتہ کی شام ملائیشیا کے وزیراعظم داتو سری انور ابراہیم کی ٹیلی فون کال موصول ہوئی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے حالیہ دورہ کوالالمپور کے دوران ملائیشیا کی قیادت اور عوام کی جانب سے  پرتپاک میزبانی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے اطمینان کا اظہار کیا کہ دورے کے دوران ہونے والے معاہدے، خاص طور پر حلال گوشت کی برآمد اور دیگر باہمی فائدہ مند شعبوں کے معاملات نے پاکستان اور ملائیشیا کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں حالیہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے شرم الشیخ میں غزہ امن معاہدے پر دستخطوں کی تقریب میں اپنی شرکت کے بارے میں وزیراعظم انور ابراہیم کو بتایا ، اس امن کوشش کو خوش آمدید کہتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ اس سے فلسطینی عوام کی تکالیف کو فوری طور پر ختم کرنے، غزہ میں بلا روک ٹوک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کی راہ ہموار کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم نے ملائشیا کے ہم منصب کو پاک افغان بارڈر پر سکیورٹی کی صورت حال سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے لیکن اسے افغان سرزمین سے ہونے والی  سرحد پار دہشت گردی کا سامنا ہے۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ افغان حکام کو افغان سرزمین سے کام کرنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کو فوری اور مؤثر طریقے سے ختم کرنا چاہیئے، جو پاکستان کے اندر حملوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان نے دوحہ میں مذاکرات کی سہولت کے لیے افغان حکام کی درخواست پر عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے اور سرحد پر امن و استحکام بحال کرنے کے لیے فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان، ٹی ٹی پی اور بلوچستان لبریشن آرمی سمیت تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کی اہمیت پر زور دیا۔ ملائیشیا کے وزیراعظم نے ان واقعات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن و استحکام بحال کرنے میں تعمیری کردار ادا کرنے کی پیشکش کی۔ دونوں رہنماؤں نے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: وزیر اعظم نے کہاکہ اعظم شہباز شریف نے رکن قومی اسمبلی ملائیشیا کے کہ پاکستان نے کہا کہ انہوں نے کے دوران مسلم لیگ کی اور

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن