بدعنوانی کا الزام ثابت ہونے پرچین کے 2 اعلیٰ فوجی جنرل برطرف
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
بیجنگ: چین کے 9 اعلیٰ فوجی عہدیداروں کے خلاف جاری بدعنوانی کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی، نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزام ثابت ہونے پر 2 اعلیٰ ترین فوجی جرنیلوں کو فوج اور حکمران کمیونسٹ پارٹی سے برطرف کر دیا گیا۔
میڈیاذرائع کی رپورٹ کے مطابق ایک دہائی سے زائد عرصے سے اقتدار میں رہنے والے صدر شی جن پنگ کی جانب سے یہ فیصلہ پارٹی اور ریاست کی تمام سطحوں سے کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی مہم کے تازہ ترین اقدام کی نشاندہی کرتا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی، جب بیجنگ میں اعلیٰ حکام کا 4 روزہ اجلاس 20 اکتوبر کو شیڈول ہے، طے شدہ اجلاس میں طویل المدتی معاشی منصوبہ بندی پر غور کیا جائے گا۔
ترجمان وزارتِ دفاع ژانگ شیاوگانگ کے جاری کردہ بیان کے مطابق مرکزی فوجی کمیشن (سی ایم سی) کے نائب چیئرمین ہی ویڈونگ ان 9 افراد میں شامل ہیں جنہیں فوج سے ’نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزیوں کی بنیاد‘ پر برطرف کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔