غزہ جنگ بندی خطرے میں؟ امریکا کا حماس پر حملے کی تیاری کا الزام، مزاحمتی تنظیم نے دوٹوک تردید کردی
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
حماس نے امریکی محکمہ خارجہ کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم جلد ہی اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ توڑنے والی ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکا نے اپنے اتحادی ممالک کو خبردار کیا تھا کہ اسے ایسے "قابلِ اعتماد اطلاعات" ملی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حماس جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے والی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ اگر حماس اس حملے کی منصوبہ بندی پر عمل کرتی ہے تو امریکا "غزہ کے عوام کے تحفظ اور جنگ بندی کے تسلسل" کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے گا۔
تاہم حماس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام دعوے بے بنیاد اور جھوٹے ہیں۔ تنظیم نے کہا کہ وہ جنگ بندی معاہدے کی مکمل پابندی کر رہی ہے اور امریکا کی جانب سے ایسا مؤقف اسرائیلی مؤقف کی تائید کے مترادف ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب غزہ میں جنگ بندی کے بعد بھی کشیدگی برقرار ہے، اور عالمی سطح پر فریقین پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ امن معاہدے پر قائم رہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔