بردار ملک بحرین کے ساتھ اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کیلئے تیار ہیں: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان بردار ملک بحرین کے ساتھ اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کیلئے تیار ہے۔منامہ میں کاروباری برداری سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بحرین میں بردارانہ تعلقات ہیں، آج باہمی تعلقات کو وسعت دینے کے لئے یہاں موجود ہوں، بحرین آنے کا مقصد اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرنا ہے، ہمارے تعلقات ثقافتی، مذہبی اور باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے، بحرین میں موجود پاکستانی تمام شعبوں میں عظیم خدمات دے رہے ہیں، دورے کا مقصد اقتصادی شعبوں میں مزید پیشرفت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کہ پاکستان بردار ملک بحرین کے ساتھ اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کیلئے تیار ہے، زراعت، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں دونوں ملک ایک ساتھ کام کر سکتے ہیں، بحرین کے کاروباری اداروں کے ساتھ مل کر نئی راہیں کھول سکتے ہیں، اب وقت ہے ہم مضبوط تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کریں۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے پاس نوجوانوں کی بڑی طاقت ہے، ہماری 60 فیصد آبادی 15 سے 30 سال کے درمیان ہے، نوجوانوں کو آئی ٹی اور اے آئی کی تربیت سے آراستہ کرنا چاہتے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بحرین کے پاس عالمی مہارت اور معاشی تجربہ ہے، پاکستان بحرین کے ترقی کے سفر سے سیکھنا چاہتا ہے اور تعاون کا خواہاں ہے، بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دیتا ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جی سی سی فری ٹریڈ ایگریمنٹ جلد حتمی مراحل میں داخل ہو جائے گا اور سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔خطاب کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے معروف قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر تیزی سے جانا ہے تو اکیلے جائیں، دور جانا ہے تو مل کر چلیں، یہ پاکستان اور بحرین کے مستقبل کے باہمی تعاون اور مشترکہ ترقی کا بہترین فلسفہ ہے۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے پرتپاک استقبال پر بحرین کے عوام اور قیادت سے اظہار تشکر کیا۔بحرین کے وزیر خزانہ شیخ سلمان بن خلیفہ نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے رشتے تاریخ سے جڑے ہیں، وزیراعظم پاکستان کی موجودگی ہمارے رشتوں کی تجدید ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف شہباز شریف نے کہ پاکستان پاکستان ا بحرین کے کے ساتھ کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘