Jasarat News:
2026-07-24@13:53:39 GMT

کراچی سے چھینی گئی پرتعیش پراڈو گاڑی 15سال بعد پکڑی گئی

اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: کراچی سے چھینی جانے والی پرتعیش پراڈو گاڑی 15 سال بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے پکڑی گئی۔

میڈیا ذرائع کے مطابق اسلام آباد تھانہ کھنہ کے ایس ایچ او عامر حیات کی سربراہ میں کامیاب آپریشن کے دوران ایک پرتعیش پراڈو ایس یو وی برآمد کی گئی۔ یہ گاڑی 15 سال قبل کراچی سے چھینی چھ گئی تھی۔

پولیس کے مطابق برآمد کی گئی گاڑی کی مالیت ایک کروڑ روپے ہے، جو 2010 میں کراچی میں گن پوائنٹ پر درخشاں تھانے کی حدود سے چھینی گئی تھی، جس کو بعد ازاں اسلام آباد لایا گیا تھا اور یہاں جعلی رجسٹریشن نمبر CG-333 ICT لگائی ہوئی تھی۔

ذرائع کے کہنا ہے کہ ایس ایچ او عامر حیات اور ان کی ٹیم نے خفیہ اطلاع پر آپریشن کرتے ہوئے گاڑیوں کی چیکنگ کے دوران ایک مشتبہ گاڑی کو روکا تھا۔ تفتیش میں پتہ چلا تھا کہ یہ وہی گاڑی ہے، جو 27 مارچ، 2010 کو کراچی سے چھینی گئی تھی۔پولیس نے گاڑی میں موجود مشتبہ شخص سکندر کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا اور اس سے مزید تفتیش کی جس کے بعد گاڑی اصل مالکان کو واپس کر دی گئی۔

ایس ایس پی اے وی ایل سی امجد شیخ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے یہ کارروائی دو ماہ قبل اگست میں کی گئی تھی اور گاڑی کا اصل رجسٹریشن نمبر BD 950 ہے۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کراچی سے چھینی اسلام ا باد گئی تھی

پڑھیں:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا

اسلام آباد:

ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔

حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔

واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا