غربت کے خاتمے کیلئے قدرتی و انسانی وسائل سے فائدہ اٹھانا ہوگا !!
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
عکاسی: وسیم نیاز
دنیا کو درپیش مسائل میں ایک بڑا مسئلہ غربت ہے جس کے خاتمے کیلئے عالمی سطح پراقدامات کیے جا رہے ہیں۔ غربت کو ایک اہم مسئلہ سمجھتے ہوئے 1992 ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 17 اکتوبر کو غربت کے خاتمے کا عالمی دن قرار دیا گیا اور یہ طے کیا گیا کہ تمام رکن ممالک نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ عالمی سطح پر بھی غربت کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کا جائزہ لیں تو ان میں پہلا ہدف غربت کا خاتمہ ہے جو 2030ء تک حاصل کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کا رکن ہونے کے ناطے پاکستان بھی اس حوالے سے اقدامات اٹھانے کا پابند ہے۔ پاکستان میں غربت کی صورتحال کیا ہے ، حکومت اس حوالے سے کیا اقدامات کر رہی ہے ،ملک سے غربت کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟ اس طرح کے بیشتر سوالات کے جوابات جاننے کیلئے ’’غربت کے خاتمے کے عالمی دن‘‘ کے موقع پر ’’ایکسپریس فورم‘‘میں ایک خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میںمختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو مدعو کیا گیا۔ ان سے ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ عاشق اعوان
(چیئرپرسن ، ڈیپارٹمنٹ آف
سوشل ورک، جامعہ پنجاب)
غربت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وسائل اور آبادی کا تناسب دیکھنا لازمی ہے۔ مالتھس کے نظریے کے مطابق آبادی کی ’’ایکسپونینشل گروتھ‘‘ہوتی ہے یعنی دو، چار، آٹھ کے پیٹرن میں جبکہ وسائل لکیر کی مانند ایک، دو، تین، چار کی طرح بڑھتے ہیں۔ کسی بھی ملک میں وسائل اور آبادی کا تناسب تین طرح سے دیکھاجاسکتا ہے۔ پہلا یہ کہ آبادی اور وسائل برابر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے ملک نے آبادی اور وسائل میں توازن برقرار رکھا ہے لیکن مالتھس کے مطابق یہ توازن زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ دوسری صورت میں وسائل آبادی سے زیادہ ہوتے ہیں۔ اگر وسائل کو ٹھیک سے مینج نہ کیا اور آبادی میں اضافہ ہوتا رہے تو کچھ وقت کے بعد وسائل میں کمی کا رجحان پیدا ہو جائے گا۔ تیسری صورت میں آبادی، وسائل سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہ صورتحال ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان میں ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا کہ غربت کی اصل وجہ وسائل کی کمی ہے یا آبادی کا بڑھنا؟ ہم جانتے ہیں کہ آبادی میں اضافہ غربت کی ایک بنیادی وجہ ہے۔ پاکستان میں اس کے علاوہ بھی کئی وجوہات ہیں جن میں وسائل کا غلط استعمال،ریسورس موبلائزیشن کی کمی وغیرہ شامل ہیں۔ وسائل کا مطلب قدرتی اور انسانی دونوں وسائل ہیں۔ پاکستان کے پاس ان دونوں وسائل کی کمی نہیں ہے لیکن مسئلہ ریسورس موبلائزیشن کا ہے۔ ہمارے پاس نوجوانوں کی صورت میں ایک بڑا ہیومن ریسورس موجود ہے اور نوجوانوں کی بڑی تعداد ورک فورس کا حصہ بھی ہے لہٰذا اگر پاکستان نے ترقی کرنی ہے اور غربت کا خاتمہ بھی کرنا ہے تو ہمیں اپنے انسانی وسائل پر توجہ دینا ہوگی۔ ہمیں نوجوانوں کو ہنر کی تعلیم دے کر اس قابل بنانا ہوگا کہ وہ معاشرے میں اپنا بہتر کردار ادا کرسکیں ۔ نوجوانوں کی معاشی حالت بہتر کرنے کیلئے صرف ملک میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں مواقع تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ اس حوالے سے سروے کیے جائیں کہ کن ممالک میں کونسی سکلز کی ڈیمانڈ ہے اور پھر نوجوانوں کو اس کے مطابق تیار کرکے دنیا بھر میں بھیجا جائے۔ اگر ہم نے نوجوانوں پر توجہ نہ دی، انہیں ہنرمند نہ بنایا تو ہماری معیشت پر بوجھ بڑھے گا اور چند برس بعد ہمیں مشکل ترین حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہمیں قدرتی وسائل ڈھونڈنے اور ان کے درست استعمال کے ساتھ ساتھ انسانی وسائل پر برابر توجہ دینی ہے۔ ہمیں مسائل کا بروقت ادراک کرتے ہوئے ایسے اقدامات کرنے ہیں جو ہمارے مستقبل کو بہتر بنا سکیں۔ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جو ہمارے معاشرے کے تمام مسائل کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے ترقی کے نئے مواقع پیدا کریں۔ ہمارے ہاں ایسے ڈگری پروگرامز چل رہے ہیں جن کے بعد نوجوانوں کو بہتر روزگار نہیں ملتا لہٰذا جن پروگرامز کی مارکیٹ ڈیمانڈ کم ہے، ان پروگرامز کے طلبہ کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر کی لازمی تعلیم دینی چاہیے تاکہ وہ اپنا بہتر روزگار کما سکیں۔ہنر کی یہ تعلیم مارکیٹ ڈیمانڈ کے مطابق ہونی چاہیے تاکہ انہیں فوری روزگار یا پھر کاروبار کیلئے سیڈ گرانٹس اور حکومتی قرض جیسی سکیموں سے فائدہ مل سکے۔ ہر حکومت نوجوانوں کیلئے مختلف پروگرامز لاتی ہے، ہمیں ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو پائیدار ہوں۔ میرے نزدیک نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کیلئے حکومتی سطح پر لانگ ٹرم منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ایسے سافٹ ویئر ہاؤسز اور ادارے قائم کیے جائیں جو طلبہ کو عالمی مارکیٹ سے لنک کریں۔ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مخالف نہیں ہوں لیکن اس پروگرام نے خواتین کو متاثر کیا ہے۔ ایک خاتون جو روزگار کیلئے سفر کرتی تھی،اسے کام کے مواقع ملتے تھے، نیا تجربہ حاصل ہوتا تھا، لوگوں سے مل کر اس کا کتھارسز ہو جاتا تھا، اس کی ذہنی و جسمانی صحت بہتر ہوتی تھی، وہ خاتون اب اس پروگرام کی وجہ سے گھر بیٹھ گئی۔ اگر اس پروگرام کو خواتین کے کام کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو فائدہ ہوگا۔ بیمار یا عمر رسیدہ خواتین جو کام نہیں کرسکتی، انہیں امداد دی جائے، باقی خواتین کی امداد کو کام کرنے سے مشروط کیا جائے۔ بہت سارے ممالک میں جب ادویات کا استعمال بڑ ھا تو انہوں نے پالیسی سازی سے لائف سٹائل میں تبدیلی پر توجہ دی۔لوگوں کے وزن بڑھنے سے جب ان کی صلاحیت میں کمی آئی اور شعبہ صحت پر بوجھ بڑھ رہا ہے تو بعض ممالک نے ٹیکس کو لوگوں کے وزن کے ساتھ منسلک کر دیا۔اس طرح کے چھوٹے چھوٹے اقدامات سے لوگوں کی صلاحیت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ میرے نزدیک بہترین منصوبہ بندی اور عملدرآمد سے غربت کا خاتمہ ممکن ہے، اسے ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔
ڈاکٹر محمد ارشد
(سابق ریجنل چیئرمین، ایف پی سی سی آئی)
دور حاضر میں عالمی سطح پر مہنگائی اور غربت کی ایک بڑی وجہ جنگیں ہیں۔ یوکرین اور روس کی جنگ میں امریکا اور یورپ بھی بالواسطہ شریک ہیں جو اس کا خرچ بھی اٹھا رہے ہیں لہٰذا یہ جنگ یورپ کو مہنگی پڑ رہی ہے جس سے ان کے خزانے پر بوجھ بڑھا ہے جو تجارت کے ذریعے دوسرے ممالک کو منتقل ہورہا ہے۔ امریکا نے ٹیرف کا محاذ بھی کھول رکھا ہے۔ وہ اگر چین پر 100 فیصد ٹیرف لگاتا ہے تو چین کی پیداواری لاگت بڑھے گی جس کا اثر ہم پر بھی پڑے گا۔چین بڑی طاقت ہے جو اپنی عزت نفس کو قائم رکھنے کیلئے امریکا پر جوابی ٹیرف لگائے گا جو اس کے برابر ہی ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ چین کے پاس کتنی مالی طاقت ہے کہ وہ اپنی مارکیٹ بچانے کیلئے قیمت کو کم سے کم سطح پر لے جائے،اس کیلئے چین کو اپنا منافع مزید کم کرنا ہوگا۔ یہ قوی امکان ہے کہ چین یہ بوجھ برداشت کر لے گا لیکن یورپ میں اتنی طاقت نہیں ہے لہٰذا نہ صرف ان کے مقامی لوگوں کے لیے بلکہ دنیا کیلئے بھی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا جس کا اثر دوسرے ممالک اور پاکستان پر بھی ہوگا۔ اضافہ صرف لوگوں کے استعمال کی اشیاء میں ہی نہیں بلکہ انڈسٹری کیلئے درکار خام مال کی قیمت میں بھی ہوگا جس سے ہماری پیداواری لاگت بڑھ جائے گی۔ ہماری زرعی اجناس کیلئے بیج، کھادو کیڑے مار ادویات درکار ہوتی ہیں جو امپورٹ کی جاتی ہیں لہٰذا جب ان کی قیمت میں اضافہ ہوگا تو اجناس بھی مہنگی ہوںگی۔ مقامی سطح کی بات کریں تو حکومتی پالیسیاں مہنگائی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں ٹیکس کا نظام کاروبار پر بوجھ ڈالتا ہے۔ ڈبل ٹیکس، سپر ٹیکس سمیت مختلف اقسام کے ٹیکسوں کی وجہ سے اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ بوجھ عام آدمی کو منتقل ہوجاتا ہے جس سے اس کی قوت خرید کم ہوتی ہے اور زندگی متاثر ہوتی ہے۔ عالمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو اس وقت ایک بہترین اور جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسی منصوبہ بندی کرنی ہے جس سے کاروبار کو سازگار ماحول ملے۔ ہمارے بینکوں کی شرح سود بہت زیادہ ہے۔ اسے 5 سے 6 فیصد ہونا چاہیے، اس سے مہنگائی میں کمی آئے گی۔ اسی طرح ٹیکس میں اضافہ کے بجائے نئے فائلرز بنائے جائیں اور ٹیکس کے نظام سے ہراسمنٹ ختم کی جائے۔ جو پہلے سے ٹیکس نیٹ میں موجود ہیں،ا ن کیلئے آسانی پیدا کی جائے اور ان کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے۔ ٹیکس سلیبز کے حساب خصوصی کارڈز جاری کیے جائیں اور زیادہ ٹیکس دینے والوں کو سرکاری محکموں میں پروٹوکول دیا جائے۔ ہمارے ٹیکسیشن کے نظام میں بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے، یقین ہے کہ حکومت اس پر کام کرے گی۔ تیل کی قیمتوں پر حکومت کو خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ 10 برس قبل ایک آسٹریلین کمپنی نے پاکستان میں سروے کرکے رپورٹ دی تھی کہ ہمارے لائن لاسز زیادہ ہیں۔ اگر بجلی کی بڑی تاروں کو اپ گریڈ کر دیا جائے تو پانچ ہزار میگا واٹ لائن لاسز کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ اس ضیاع کا بوجھ عوام پر ہی پڑتا ہے۔ اگر بجلی اور تیل کی قیمتوں پر توجہ دے جائے تو ٹرانسپورٹ کرایوں اور مارکیٹ میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔ تیل پر بھی ٹیکس میں کمی لانی چاہیے۔ خبریں آرہی ہیں کہ پاکستان سے بھی تیل نکل آیا ہے، خدا کرے پاکستان اس میں خود کفیل ہو جائے اور ہماری تیل کی امپورٹ ختم ہو جائے۔
عبداللہ ملک
(نمائندہ سول سوسائٹی)
17 اکتوبر 1992ء کو اقوام متحدہ کی جنرل میں قرارداد نمبر 47/196 منظور ہوئی جو غربت کے خاتمے کے عالمی دن کے حوالے سے تھی۔ اس دن سے لے کر آج تک 17 اکتوبر کو دنیا بھر میں ہر سال غربت کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں اور معاشرے کے دیگر افراد کے درمیان مثبت ڈائیلاگ کا فروغ ہے کہ کس طرح لوگوں کو غربت سے نکالنا ہے اور ان کی زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ ایسے افراد جو تعلیم، صحت، سماجی اور معاشی انصاف سے محروم ہیں، ان کیلئے ایسے اقدامات اٹھانے ہیں تاکہ وہ ایک بہتر زندگی گزار سکیں جہاں انہیں ان کے بنیادی انسانی حقوق میسر ہوں۔ ہر سال عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک یہ اعادہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے ملک میں غربت کے خاتمے کیلئے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کی روشنی میں تسلسل کے ساتھ مثبت اورتعمیری پالیسیاں بناکر لوگوں کو سماجی تحفظ، تعلیم، صحت، چھت و دیگر سہولیات دینے کیلئے وسائل پیدا کریں گے ۔ ہم نے بھی اس قرارداد پر دستخط کر رکھے ہیں لہٰذا جہاں دنیا عالمی سطح پر اقدامات اٹھا رہی ہے وہاں پاکستان کی حکومت ایسے اقدامات اٹھانے کی پابند ہے جن سے غریب آدمی کی زندگی کو آسان بنایا جائے گا، اس کی مشکلات کو کم کیا جائے گا،ا سے تعلیم اور صحت کی سہولیات دی جائیں گی تاکہ وہ ایک عام شہری کی طرح زندگی گزار سکے۔ غریب اور کم آمدنی والے افراد کی مدد، سماجی اور معاشی انصاف کی فراہمی اور پائیدار معاشی ترقی کے تسلسل سے پاکستان میں غربت میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ دنیا کی 9 فیصد اور پاکستان کی 44.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پائیدار ترقی کے اہداف غربت کے خاتمے کے اقوام متحدہ کے غربت کا خاتمہ ایسے اقدامات عالمی سطح پر کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو پاکستان میں نوجوانوں کی سے اقدامات غریب افراد زندگی گزار میں اضافہ کی قیمتوں کی وجہ سے لوگوں کے لوگوں کی عالمی دن کے مطابق حوالے سے اضافہ ہو کی زندگی رہے ہیں کو بہتر ملک میں غربت کی کیلئے ا توجہ دی کیا گیا پر توجہ ہوتی ہے ہے اور ہیں جو فیصد ا اور ان کے لیے رہا ہے پر بھی کیا ہے رہی ہے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔