نوے کے عشرے میں جب ہم نے عملی صحافت کا آغاز کیا تو وطنِ عزیز کی صحافت، سیاست اور ادب میں ابھی دائیں اور بائیں بازُو کے واضح نشانات موجود تھے ۔ بایاں بازُو اگرچہ ٹانواں ٹانواں باقی رہ گیا تھا، لیکن اپنے تشخص اور پہچان کے ساتھ موجود تھا ۔
ملک کے چاروں صوبوں میں بائیں بازُو کے کئی اخبارات و جرائد اپنی منفرد پھبن کے ساتھ موجود تھے۔80ء کے عشرے میں مگر دو ایسے واقعات نے جنم لیا جنھوں نے ہمارے ہاں بائیں بازُو کی موجودگی کو نہائت مدہم کر دیا۔ اور یہ تھے ایران میں مذہبی انقلاب کا برپا ہونا اور پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی آمریت !جنرل ضیاء کے گیارہ سال استبدادی دَور نے پاکستان میں دائیں بازُو کی صحافت ، سیاست اور ادبیات پر ایک خاص ایجنڈے کی تکمیل کے لیے دست شفقت رکھا اور غیر محسوس انداز میں بائیں بازُو کی سیاست و صحافت کو کچل کررکھ دیا۔
اب ہر جانب یک رُخے خیالات و افکار کی ’’بہار‘‘ ہے۔ آج کے نئے صحافیوں کو شائد معلوم ہی نہ ہو کہ دائیں اور بائیں کی صحافت میں تخصیص و امتیاز کسے کہتے ہیں؟اِسے ہماری خوش قسمتی کہئے یا بدبختی کہ ہم نے صحافت کا آغاز کیا تو دائیں بازُو کے حامل صحافتی اداروں اور دائیں بازُو کے معروف صحافیوں کے زیر ادارت ہی کیا ۔
جناب الطاف حسن قریشی وطنِ عزیز کے نامور اور معروف دائیں بازُو کے صحافیوں کے سرخیل و سردار ہیں ۔ اِنہی محترم کے زیر سایہ ہم نے بھی صحافت کی وادیِ پُر خار میں قدم رکھا ؛ چنانچہ جناب الطاف حسن قریشی کی شخصیت ، صحافت اور اسلوبِ تحریر سے ہم متاثر و مغلوب ہوتے چلے گئے ۔ اب تک اُن کی تحریروں کے حُسن نے ہمارے قلب و نظر کو خیرہ کررکھا ہے ۔
پاکستان میں صحافت اور سیاست سے ذرا سی دلچسپی رکھنے والا کون نہیں جانتا کہ جناب الطاف حسن قریشی ماہنامہ ’’اُردو ڈائجسٹ‘‘ کے بانی و مدیر ہیں ۔ ماضی قریب میں اُن کی جادوئی صحافتی شخصیت نے اُنہیں بادشاہ گر بھی بنائے رکھا ۔ جنرل ضیاء الحق اور نواز شریف کے مقرب و معتمد صحافیوں کی فہرست میں اوّلین حیثیت رکھتے رہے ہیں ۔ اُردو ڈائجسٹ نے لاریب پاکستان میں قومی زبان ، اُردو، کی ترویج و اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
اگرچہ اُردو زبان کو آج تک قومی سطح پر وہ مقام نہیں مل سکا ہے جس کی وہ مستحق ہے۔ الطاف حسن قریشی صاحب اپنی تحریروں میں پاکستان میں انگریزی بولنے والوں کو طنزو تعریض کا ہدف بناتے بھی رہے ہیں۔ وہ جن نامور پاکستانی شخصیات سے انٹرویو کرتے تھے، اُن میں بھی بین السطور وطنِ عزیز کے تمام شعبہ ہائے حیات میں اُردو کی واضح ترویج کی تبلیغ و اشاعت کا فریضہ ، بالخصوص،ادا کرتے تھے۔ اگرچہ اُردو ڈائجسٹ میں خود ’’ڈائجسٹ‘‘ کا لفظ انگریزی زبان کا ہے۔
ایک زمانے میں جناب الطاف حسن قریشی کے مفصل انٹرویوزکا بے حد شہرہ رہا ہے ۔ اُن کے انٹرویوز اب تو کلاسیک کا درجہ حاصل کر چکے ہیں ۔ خوش قسمتی سے اب اُن کے کئی انٹرویوز کا پہلا حصہ کتابی شکل میںاشاعت پذیر ہو چکا ہے ۔ اِسے ’’دانشِ گفتگو‘‘ کا دلکش و دلربا عنوان دیا گیا ہے ۔ ’’دانشِ گفتگو‘‘ میں 30انٹرویوز شامل ہیں۔ مختلف شخصیات سے الطاف صاحب کے یہ تاریخی مکالمات 1961ء تا 1964ء میں کیے گئے ۔ اِن انٹرویوز کا منفرد جمال یہ ہے کہ اِن میں تنوع ہے ۔زیر تبصرہ کتاب میں الطاف حسن قریشی صاحب نے ججوں، قانون دانوں، وزیر اعظم ، علمائے کرام ، ادیبوں، طبیبوں اور پولیس افسروں سے باکمال مکالمہ کیا ہے ۔
الطاف حسن قریشی صاحب کے حروفِ مطبوعہ پر ریویوکرنا سہل نہیں ہے۔ زیر نظر کتاب میں شامل جملہ انٹرویوز کئی ایسی شخصیات کے بھی ہیں جنھوں نے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح اور حضرت علامہ اقبال سے ملاقات کا شرف حاصل کیا اور اُنہیں دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کیں ۔ مثال کے طور پر مولانا غلام رسول مہر ( جو اپنے دَور کے مشہور صحافی، مترجم اور ادیب تھے) نے الطاف صاحب سے مکالمہ کرتے ہُوئے بتایا کہ ہم نے اپنا اخبار ’’انقلاب‘‘ شائع کیا تو اِس کی پہلی اشاعت کے پہلے صفحے پر حضرت علامہ اقبال کی نظم بعنوان ’’انقلاب‘‘ شائع کی گئی اور اخبار کا نام بھی علامہ صاحب کی اِسی نظم سے اس لیے لیا گیا کہ ہم نے علامہ صاحب سے مذکورہ نظم خود سُننے کی سعادت حاصل کی تھی ۔
’’دانشِ گفتگو‘‘ میں شامل اوّلین انٹرویو میں جسٹس ایس اے رحمان نے بھی دلکشا یادوں میں شامل کرتے ہُوئے قارئین کو بتایا ہے کہ اُنھوں نے کب اور کس ماحول میں علامہ اقبال سے شرفِ ملاقات حاصل کیا ۔ ہم تو اِن نادر ملاقاتوں کا تصورات ہی میںرُوحانی لطف اُٹھا سکتے ہیں ۔ ایسا ہی رُوحانی لطف ہمیں کتاب میں شامل مولانا صلاح الدین احمد ( اپنے دَور کے معروف ادبی جریدے ’’ادبی دُنیا‘‘ کے مالک و مدیر) کے انٹرویو سے بھی ملتا ہے ۔ مولانا صلاح الدین بتاتے ہیں کہ جب سرسید احمد خان اپنی علی گڑھ یونیورسٹی اور مسلمانانِ ہند کے تعلیمی فروغ کے لیے لاہور تشریف لائے اور چندے کی کال کی تو صلاح الدین احمد صاحب کی والدہ محترمہ نے گھر میں موجود چاندی کے سکّوں سے بھرا مٹکا سرسید احمد خان کی خدمت میں پیش کردیا۔ساری عمر کی جمع پونجی ایک قومی مقصد پر نثار کر دی۔ آج ایثار و قومی خدمت کی ایسی مثال شائد ہی ہمیں اپنے سماج میں میسر آئے ۔
یہ عظیم اور بے نظیر لوگ اب رفت گذشت ہو چکے ہیں ۔ کتاب میں شامل میاں بشیر احمد اور جسٹس محمد شریف بھی اُن خوش بخت شخصیات میں شامل تھے جنھوں نے بابائے قوم کو دیکھا، اُن کے ساتھ تحریکِ پاکستان میں خدمات انجام دیں اور اُن کے نقوشِ قدم پر چلنے کی اپنی سی کوششیں بھی کیں ۔ ’’دانشِ گفتگو‘‘ میں اُن کے خیالات پڑھ کر نظریہ پاکستان اور مقاصدِ تشکیلِ پاکستان پھر سے انگڑائی لے کر دل میں بیدار ہو جاتے ہیں۔
’’دانشِ گفتگو‘‘ میں شامل بعض انٹرویوز ایسے بھی ہیں جن پر چھ عشروں سے زائد زمانے اور بدلے حالات کی اتنی گرد جم چکی ہے کہ چہرے دھندلے اور بے نام ہو چکے ہیں اور اُن کے خیالات و شخصیت آج Irrelevant ہو چکے ہیں ۔ اُن کی گفتگو بھی بے لطف، بے محل اور بے مزہ ہو چکی ہے ۔ مثال کے طور پر زیر نظر کتاب میں شامل ڈاکٹر سید محمد عبداللہ اور ڈاکٹر مس خدیجہ فیروز الدین سے مکالمات ۔اِس بے مزہ فہرست میں چند اور اسمائے گرامی بھی شامل ہیں۔تقریباً500صفحات پر مشتمل ’’دانشِ گفتگو‘‘ بڑے خوبصورت انداز میں شائع کی گئی ہے ۔ قیمت تین ہزار روپے ہے اور اِس قیمت کو بے جا کہا جانا چاہیے ۔
کتاب کے آخری صفحات میں اُن تمام معزز اور تاریخی شخصیات کی فوٹوز بھی شائع کر دی گئی ہیں جن کے انٹرویوز کیے گئے ۔ یہ قابلِ تحسین اقدام کیا گیا ہے۔ دانش و عمل کی یہ بے نظیر ہستیاں اگرچہ اب نظروں سے اوجھل ہو چکی ہیں لیکن اُن کی تصاویر دیکھ کر دل کو سکینت ملتی ہے ۔ جناب الطاف حسن قریشی نے اپنے جملہ انٹرویوز میں تقریباً ہر شخصیت سے نظریہ پاکستان ، تشکیلِ پاکستان کے مقاصد ، اسلامی کلچر کے تحفظ، پاکستان میں اُردو کی ترویج ، ملک میں نظامِ اسلام کے نفاذ اور عالمِ اسلام کے اتحاد بارے سوالات پوچھے بھی ہیں اور اپنے سوالات میں اِنہی موضوعات بارے اپنے ذاتی خیالات و خواہشات کا اظہار بھی کیا ہے ۔
زیر نظر کتاب میں جن شخصیات کے انٹرویوز شامل کیے گئے ہیں، ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں: جسٹس ایس اے رحمن ، ڈاکٹر سید محمد عبداللہ ، غلام رسول مہر، چوہدری نذیر احمد خان، ڈاکٹر مس خدیجہ فیروز الدین، مولانا صلاح الدین احمد،، حکیم نیر واسطی، ڈاکٹر عبدالرحمن بارکر، میاں بشیر احمد، جسٹس محمد شریف، اے کے بروہی، پروفیسر حمید احمد خاں، مولوی تمیز الدین، محمد شریف خاں، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، چوہدری محمد علی، مولانا ابوالحسن علی ندوی، سید محمد امین الحسینی، ڈاکٹر محمود حسین، صالح اوزجان، چوہدری محمد افضل چیمہ، غلام محی الدین قصوری ، ڈاکٹر غلام یاسین خاں نیازی، حکیم محمد سعید دہلوی، مولوی فرید احمد، اے آر کار نیلیئس، حسن الامین، اے ٹی مصطفیٰ، مولانا احتشام الحق تھانوی اور جسٹس محبوب مرشد۔ مکرم و محترم الطاف حسن قریشی صاحب کا خصوصی شکریہ کہ جناب نے اپنی یہ کتاب( دانشِ گفتگو) چند ہفتے قبل اپنے دستخطوں سے مجھے ارسال فرمائی ۔ ریویو میں کچھ تاخیر ہو گئی ہے ۔ اِس پر معذرت قبول فرمائیے۔یہ ریویو مگر ناتمام ہے کہ الطاف صاحب کے الفاظ پر تبصرہ آسان نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: الطاف حسن قریشی صاحب جناب الطاف حسن قریشی کتاب میں پاکستان میں صلاح الدین باز و کے چکے ہیں
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔