data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میں اکثر ’برین ڈرین‘ کا ذکر ہوتا ہے لیکن ’ریورس برین ڈرین‘ اور وہ بھی بلوچستان جیسے خطے میں۔ کوئٹہ کا ایک نوجوان طالب علم وہاں سے اٹھا آغا خان اور ہارورڈ جیسے اعلی تعلیمی اداروں سے پڑھ کر، امریکہ میں بحثیت کارڈیالوجسٹ لوہا منوانے کے بعد واپس لوٹا اور اس علاقے کے لوگوں کی خدمت کامیابی سے شروع کر دی۔ڈاکٹر سہیل ایک امریکہ پلٹ پاکستانی نوجوان ہیں، جو بلوچستان میں بہتر صحت کی سہولیات عوام تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہارورڈ یونیورسٹی سے ماسٹرز اِن ہیلتھ کیئر مینیجمنٹ مکمل کیا۔2021 میں ایک کامیاب پیشہ ورانہ زندگی کے باوجود، انہوں نے امریکہ چھوڑ کر پاکستان واپسی کا فیصلہ کیا۔وہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز (NICVD) کراچی میں چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) کے طور پر شامل ہوئے، جہاں انہوں نے دل کے مریضوں کے لیے جدید اور معیاری علاج کے نظام کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔