قومی انسدادِ پولیو مہم کا آخری روز، 4 کروڑ 37 لاکھ سے زائد بچوں کا ہدف مکمل
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
قومی انسدادِ پولیو مہم اپنے آخری روز بھی بھرپور انداز میں جاری ہے جس میں کے ابتدائی چھ روز میں 4 کروڑ 37 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے ہیں۔
نیشنل ای او سی کے مطابق پنجاب میں 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے، سندھ میں 1 کروڑ 4 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے، خیبر پختونخوا میں 61 لاکھ 67 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے اور بلوچستان میں 25 لاکھ 84 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔
نیشنل ای او سی نے مزید بتایا کہ اسلام آباد میں 4 لاکھ 66 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے جبکہ گلگت بلتستان میں تقریباً 2 لاکھ 94 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔
ادارے کا مزید کہنا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر میں 7 لاکھ 33 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔
ادارے نے مزید کہا کہ قوم کے مستقبل کو پولیو سے بچانا ہر فرد کی قومی ذمہ داری ہے۔ پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے میں والدین اور سرپرستوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔
پولیو ٹیم سے رابطے کے لیے 1166 پر کال کریں یا 03467776546 پر واٹس ایپ مسیج کریں، نیشنل ای او سی
جنوبی خیبرپختونخوا میں یہ مہم 20 اکتوبر سے منعقد کی جائے گی، نیشنل ای او سی
پولیو ٹیموں کو خوش آمدید کہیں اور اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلوائیں، نیشنل ای او سی
والدین سے اپیل ہے کہ اپنے 5 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی، نیشنل ای او سی
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے لاکھ سے زائد بچوں نیشنل ای او سی پولیو کے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔