سیلاب سے 40 لاکھ افراد بے گھر معاشی نقصان کا تخمینہ 822 ارب: مزمل اسلم
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
پشاور ( بیورو رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مزمل اسلم نے کہا ہے کہ وفاقی اور پنجاب حکومت سیلاب متاثرین کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ایک بیان میں کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے زرعی نقصانات کے معاوضے ادا کر دیئے ہیں، سیلاب 2025 سے ملک بھر میں 40 لاکھ افراد بے گھر اور کل معاشی نقصان کا تخمینہ 822 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 631 ارب، خیبرپختونخوا میں 51 ارب اور سندھ میں 32 ارب روپے کے نقصانات ہوئے۔ کپاس کی 30 سے 34 لاکھ گانٹھیں اور گنے کی 13 سے 33 لاکھ ٹن پیداوار متاثر ہوئی، جبکہ چاول کی پیداوار میں 6 سے 12 لاکھ ٹن تک کمی آئی ہے۔ مزمل اسلم نے خبردار کیا کہ سیلابی نقصانات کے باعث برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں ملکی جی ڈی پی میں تقریباً 1 فیصد کمی متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔