کراچی کے بعد سکھر میں بھی بغیر پلیٹس گاڑیوں کیخلاف کریک ڈائون
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت) سکھر میں بھی بنا نمبر پلیٹس گاڑیوں کیخلاف پولیس نے آپریشن شروع کر دیا، اے ایس پی سٹی کیپٹن (ر) صہیب امین کی سربراہی میں شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں اور اہم پوائنٹس پر ایس ایچ اوز کی نگرانی میں 15 ایگلز سمیت بھاری نفری کے ہمراہ چیکنگ کا عمل جاری ہے۔ ترجمان پولیس کیمطابق دورانِ کارروائی سینکڑوں گاڑیوں کو روکا گیا، ان کے کوائف اور نمبر پلیٹس کی تصدیق کی گئی، نمبر پلیٹ نہ لگنے کی صورت میں 61 سے زائد موٹر سائیکلوں کو تحویل میں لیکر مختلف تھانوں میں لایا گیا۔ جن کی تصدیق اور تنبہہ کے بعد مالکان کے حوالے کردی گئی۔اسنیپ چیکنگ کے دوران قانون کے خلاف ورزی کرنے والی 38 گاڑیوں/موٹر سائیکلوں کے چالان کیے گئے، علاوہ ازیں دوران اسنیپ چیکنگ کالے شیشوں والی گاڑیوں، گرین، بلو فینسی نمبرز پلیٹوں والی گاڑیوں، سمیت رکشہ، دیگر چھوٹی بڑی گاڑیوں کو بھی چیک کیا جارہا ہے۔ جن میں 4 سے زائد کاروں کو روک کر کالے شیشے ہونے پر کاروائی کردی گئی۔مشکوک افراد کی تلاش ایپ کے تحت ویری فیکیشن / تصدیق کا عمل بھی جاری ہے۔ایس ایس پی سکھر اظہر خان کا کہنا ہے کہ بغیر نمبر پلیٹس اور غیر رجسٹرڈ گاڑیاں اکثر جرائم پیشہ سرگرمیوں میں استعمال ہوتی ہیں، لہٰذا ان کے خلاف کارروائی بلا امتیاز جاری رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔