Islam Times:
2026-07-24@07:57:47 GMT

امریکی سلطنت کے زوال کی علامات

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

امریکی سلطنت کے زوال کی علامات

اسلام ٹائمز: غزہ کی دو سالہ جنگ مجرمانہ اقدامات، نسل کشی اور بربریت سے بھری پڑی ہے اور وہی حماس جس کا مکمل خاتمہ کیا جانا تھا اسی سے مذاکرات اور معاہدے ہو رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل بھی شدید بحران اور اندرونی مشکلات کا شکار ہے۔ غزہ میں ایسی بربریت کا مظاہرہ کیا گیا کہ حتی امریکہ کے یہودی اور رائے عامہ بھی اسرائیل اور اس کے حامیوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی اور آئندہ الیکشن میں ٹرمپ کا ووٹ بینک بھی خطرے میں پڑ چکا ہے۔ امریکہ میں ٹرمپ کی ڈکٹیٹرشپ کے خلاف تمام پچاس ریاستوں میں ملین مارچ منعقد ہوا ہے۔ امریکی میڈیا بھی سراپا احتجاج بنا ہوا ہے اور اب ٹرمپ وینزویلا کے خلاف فوجی مہم جوئی کے ذریعے ان سب کی توجہ ایک نئے مسئلے پر مرکوز کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔ ان حالات میں واضح طور پر امریکی سلطنت اور اثرورسوخ کا زوال دیکھا جا سکتا ہے۔ تحریر: ہادی محمدی
 
ڈونلڈ ٹرمپ نے رنگا رنگ وعدوں کے ذریعے وائٹ ہاوس میں داخلے کی راہ ہموار کی تھی اور پوری دنیا پر امریکہ کی سلطنت قائم کرنے کی خوشخبریاں سنائی تھیں لیکن اب اس نے صیہونیوں سے بھی زیادہ انتہاپسند مسخروں کی ٹیم اپنے گرد اکٹھی کر رکھی ہے اور آمرانہ انداز میں حکومت چلا رہا ہے۔ ٹرمپ نے بین الاقوامی سطح پر تمسخر آمیز رویہ اختیار کر رکھا ہے جبکہ کانگریس میں ڈیموکریٹس کے خلاف جنگ جاری رکھی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں امریکی معاشرے میں اس کے خلاف بغاوت پیدا ہوتی جا رہی ہے۔ ٹرمپ اپنے اتحادیوں، دوستوں اور حامیوں سے بھی توہین آمیز رویہ اختیار کرتا ہے جس کے باعث کوئی بھی اس کی اطاعت کرنے پر راضی دکھائی نہیں دیتا جبکہ اقتصادی اور تجارتی میدان میں ہر ایک سے بھتہ وصول کرنے کی پالیسی نے سب کو امریکہ سے دور کرنا شروع کر دیا ہے۔
 
امریکہ کی جانب سے اپنے حریف ممالک سے بھی آمرانہ رویوں کے باعث عالمی سطح پر ٹکراو کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور مدمقابل قوتیں ایکدوسرے کو دھمکیاں دینے میں مصروف ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی سلامتی کو بھی نئی عالمی جنگ شروع ہونے جیسے شدید خطرے کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ کانگریس میں ڈیموکریٹس سے اندھے ٹکراو کے باعث بجٹ منظور نہیں ہو پایا اور حکومتی ادارے تعطل کا شکار ہو گئے ہیں اور حکومت سے وابستہ بہت سے شعبے بند کر دیے گئے ہیں۔ اس دوران بجٹ سے مربوط ایسے ادارے بھی معطل ہو کر رہ گئے ہیں جن کا براہ راست تعلق نومبر میں منعقد ہونے والے مڈٹرم الیکشن سے تھا۔ اس الیکشن کے نتیجے میں ایوان نمائندگان اور سینٹ میں سیٹوں کی تعداد میں ردوبدل کا امکان پایا جاتا ہے۔
 
سینکڑوں حکومتی اہلکاروں کو بغیر تنخواہ چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے جبکہ دسیوں ہزار افراد بے روزگار ہو گئے ہیں۔ ساڑھے پانچ ٹریلین ڈالر کے قریب قرضہ اور سات ٹریلین ڈالر کے قریب بجٹ میں خسارہ ہے جبکہ اقتصادی ترقی کم ہو گئی ہے اور اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا سامنا ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی سطح پر ڈالر کی بجائے سونے کی طرف رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور سونے کی عالمی قیمت ایک اونس کے بدلے 4300 ڈالر سے بھی اوپر چلی گئی ہے۔ مختلف ممالک اپنے ڈالر کے ذخائر کم کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ دوست اور حریف ممالک دونوں سے اقتصادی جنگ نے امریکی معیشت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا جبکہ چین اس سے پورا فائدہ اٹھانے میں مصروف ہے اور نپے تلے اقدامات کے ذریعے اپنی اقتصاد کو ترقی کی جانب لے جا رہا ہے۔
 
یوکرین جنگ میں روس کو کنٹرول اور کمزور کرنے کی پالیسی پوری طرح ناکام ہو چکی ہے اور اس کے الٹے اثرات ظاہر ہو رہے ہیں۔ یوکرین جنگ کے اخراجات یورپ برداشت کر رہا ہے جبکہ اسلحہ فراہم کرنے کی ذمہ داری امریکہ کی بیمار معیشت پر ہے۔ امریکہ نے یوکرین کو زیادہ مہلک ہتھیار بھی فراہم کیے لیکن ان کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہو سکا۔ لہذا آنے والے دنوں میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے مذاکرات کو ایجنڈے میں شامل کر لیا گیا ہے جس میں محدود پیمانے پر معاہدے متوقع ہیں۔ ایسے ہی جیسے چینی صدر کی دھمکیوں کے بعد پسپائی اختیار کی تھی اور ایپک کے ایشیائی اجلاس میں چینی صدر سے ملاقات کو غنیمت جانا گیا تھا تاکہ کچھ حد تک چین کے اقتصادی اقدامات سے بچا جا سکے۔ امریکہ کے ماہرین اقتصاد نے خبردار کیا ہے کہ 2008ء سے بھی زیادہ شدید اقتصادی بحران درپیش ہے۔
 
امریکہ کی سیاست اور معیشت ہمیشہ سے جنگوں کی آگ جلا کر اور دوسروں کی لوٹ مار کر کے قائم رہی ہے اور گذشتہ چند دہائیوں میں سینکڑوں جنگیں انجام پائی ہیں جن میں بڑے پیمانے پر انسانوں کا قتل عام کیا گیا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال غزہ کی جنگ ہے جس نے ٹرمپ کو عالمی سیاست کی چوٹی سے زوال کی جانب کھینچا ہے۔ ٹرمپ نے خود کو درپیش تقریباً تمام بین الاقوامی ایشوز میں پسپائی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یوکرین جنگ روس کے لیے دلدل اور جال بننے کی بجائے یورپ کی معیشت تباہ ہونے اور ٹرمپ کی سربراہی میں امریکہ کی ناکامی کا باعث بن گئی ہے۔ اسی طرح چین کو کنٹرول کرنے کی پالیسی بھی انتہائی نقصان دہ پسپائی پر ختم ہوئی ہے اور اب یہ بات کی جا رہی ہے کہ امریکہ چین کے خلاف ٹیکس عائد کرے گا۔
 
غزہ کی دو سالہ جنگ مجرمانہ اقدامات، نسل کشی اور بربریت سے بھری پڑی ہے اور وہی حماس جس کا مکمل خاتمہ کیا جانا تھا اسی سے مذاکرات اور معاہدے ہو رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل بھی شدید بحران اور اندرونی مشکلات کا شکار ہے۔ غزہ میں ایسی بربریت کا مظاہرہ کیا گیا کہ حتی امریکہ کے یہودی اور رائے عامہ بھی اسرائیل اور اس کے حامیوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی اور آئندہ الیکشن میں ٹرمپ کا ووٹ بینک بھی خطرے میں پڑ چکا ہے۔ امریکہ میں ٹرمپ کی ڈکٹیٹرشپ کے خلاف تمام پچاس ریاستوں میں ملین مارچ منعقد ہوا ہے۔ امریکی میڈیا بھی سراپا احتجاج بنا ہوا ہے اور اب ٹرمپ وینزویلا کے خلاف فوجی مہم جوئی کے ذریعے ان سب کی توجہ ایک نئے مسئلے پر مرکوز کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔ ان حالات میں واضح طور پر امریکی سلطنت اور اثرورسوخ کا زوال دیکھا جا سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکہ کی کے ذریعے کی سلطنت کے خلاف کرنے کی ہے جبکہ گئے ہیں اور اس سے بھی رہا ہے ہوا ہے ہے اور

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل