بھارت میں دیوالی کا تہوار، پاکستان کے مشرقی شہروں کی فضا آلودہ ہونے لگی
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
لاہور:
بھارت میں دیوالی کے تہوار کے باعث خطے کی فضا میں آلودگی بڑھ گئی ہے جس کے اثرات سرحد پار پاکستان کے مشرقی شہروں تک پہنچ رہے ہیں۔
ایئر کوالٹی مانیٹرنگ نیٹ ورک کے مطابق لاہور میں آج صبح فضائی معیار کی شرح (اے کیو آئی) 287 ریکارڈ کی گئی، جبکہ قصور میں 331، شیخوپورہ میں 311، فیصل آباد میں 277، گجرانوالہ میں 178 اور ملتان میں 204 ریکارڈ ہوئی۔ پنجاب میں فضائی آلودگی کے لحاظ سے قصور پہلے، شیخوپورہ دوسرے اور لاہور تیسرے نمبر پر ہے۔
عالمی ماحولیاتی ادارے آئی کیو ایئر کے مطابق لاہور اس وقت دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے اور بھارتی دارالحکومت دہلی دوسرے نمبر پر ہے، جہاں لاہور کا اے کیو آئی 298 اور دہلی کا 283 ریکارڈ کیا گیا۔
پنجاب حکومت نے دیوالی کے موقع پر فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے ہیں۔ سرحد پار سے آلودہ ہوائیں داخل ہونے کے خطرے کے پیش نظر اینٹی اسموگ گنز کو فعال کر دیا گیا ہے اور رات سے ٹھوکر نیاز بیگ اور دیگر آلودہ مقامات پر آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
محکمہ ماحولیات کے مطابق امرتسر، لدھیانہ اور ہریانہ سے آنے والی ہوائیں لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، بہاولپور، رحیم یار خان اور ملتان کی فضا کو متاثر کریں گی۔ آج صبح اور رات کے اوقات میں آلودگی کی شدت زیادہ رہے گی جبکہ دوپہر کے وقت معمولی بہتری کی توقع ہے۔
پنجاب اسموگ مانیٹرنگ سینٹر نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسک پہننے کو معمول بنایا جائے، اور بچے، بزرگ اور سانس کے مریض غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ اسموگ سے بچاؤ اور کمی کے لیے ہر شہری کا کردار اہم ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ ماحولیاتی ایس او پیز پر عمل کریں اور حکومت کے اقدامات میں مکمل تعاون کریں تاکہ آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔