data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد کی عدالت نے خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے خلاف جاری مقدمے میں ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب وہ متعدد بار عدالت میں پیش نہ ہوئے۔ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن نے علی امین گنڈاپور کے خلاف شراب اور اسلحہ برآمدگی کیس کی سماعت کی، جس میں عدالت نے ان کی مسلسل غیرحاضری پر برہمی کا اظہار کیا۔

سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ ملزم کو طلب کیے جانے کے باوجود وہ پیش کیوں نہیں ہوئے؟ وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ سابق وزیراعلیٰ بعض ذاتی مصروفیات کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہوسکے، تاہم عدالت نے یہ مؤقف مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ملزم کی بار بار غیرحاضری عدالتی عمل میں رکاوٹ کے مترادف ہے۔ اس پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت دی کہ علی امین گنڈاپور کو گرفتار کر کے آئندہ سماعت پر عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔

عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے پولیس سے رپورٹ طلب کرلی۔ یاد رہے کہ علی امین گنڈاپور کے خلاف یہ مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ بارہ کہو میں درج کیا گیا تھا، جس میں ان پر شراب اور اسلحہ کی برآمدگی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ مقدمے کے اندراج کے بعد سے اب تک وہ متعدد بار طلب کیے جا چکے ہیں، تاہم عدالت میں حاضر نہ ہونے پر ان کے خلاف کارروائی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور عدالت نے کے خلاف

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری