لیسکومیں سولرسسٹم سےمنظورہ شدہ سےزائدبجلی کی پیداوارکرنےکاانکشاف
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
سٹی42: لیسکو (لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی) میں صارفین کی جانب سے سولر سسٹم کے ذریعے منظور شدہ حد سے زائد بجلی کی پیداوار کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
نیپرا اور لیسکو کی جانب سے مخصوص صارفین کو بجلی پیدا کرنے کے لیے لائسنس جاری کیے گئے تھے، جن میں بجلی کی پیداوار کی حد مقرر تھی۔کئی صارفین نے اس حد سے تجاوز کرتے ہوئے اضافی سولر پینلز نصب کر لیے، جس کے باعث ریکارڈ سطح پر بجلی کی پیداوار سامنے آئی۔لیسکو نے ایم ڈی آئی (Maximum Demand Indicator) ریڈنگ کے ذریعے ان خلاف ورزیوں کا سراغ لگایا۔
جن صارفین کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی اور اضافی بجلی کی پیداوار ثابت ہوئی، انہیں لائسنس منسوخی کے نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔
لیسکو کا کہنا ہے کہ اضافی پیداوار گرڈ پر لوڈ ڈالنے، سسٹم کے توازن میں خلل اور دیگر تکنیکی مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔کمپنی کے مطابق ہر صارف نے جو معاہدہ کیا تھا، اس کے تحت اسے ایک مخصوص لوڈ کے مطابق بجلی پیدا کرنے کی اجازت دی گئی تھی، جس کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب اس معاملے پر نیپرا بھی ایکشن لے سکتی ہے کیونکہ یہ معاملہ نہ صرف معاہدہ شکنی کا ہے بلکہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی بھی ہے۔
قتل میں ملوث اشتہاری ملزم سعودی عرب سے گرفتار
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 بجلی کی پیداوار
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔