بریسٹ فیڈنگ نہ کرانے سے معیشت پر بوجھ بڑھ رہا ہے، وزیر مملکت برائے صحت
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ کا کہنا ہے کہ ماں کا دودھ ہی بچوں کے لیے بہترین ہے، بریسٹ فیڈنگ نہ کرانے سے معیشت پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیرمملکت برائےصحت ڈاکٹر مختاربھرتھ کا کہنا تھا کہ ملک میں بچوں کی افزائش کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں، ماں کا دودھ ہی بچوں کے لیے بہترین ہے۔ ڈاکٹر مختاربھرتھ کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹیرین کوبھی اس متعلق آگاہی دینےکی ضرورت ہے، بریسٹ فیڈنگ پرقانون سازی موجود ہے جس پرعملدرآمد کرا رہے ہیں، اسلام آباد سمیت ملک بھر میں خواتین کوآگاہی دی جائےگی۔ان کا کہنا تھا کہ بریسٹ فیڈنگ نہ کرانے سے معیشت پر بوجھ بڑھ رہا ہے، حکومت بریسٹ فیڈنگ پرمؤثر قانون سازی کرےگی۔
خیال رہے کہ ڈبے کا دودھ صرف ماں سے محروم بچے کی ضرورت ہے لیکن فارمولا دودھ پر اربوں روپے غیر ضروری خرچ کیے جاتے ہیں۔ماہرین صحت کے مطابق ڈبےکا دودھ یا فارمولا ملک صرف ان بچوں کو دیا جاسکتا ہے جن کی مائیں پیدائش کے دوران یا فوراً بعد انتقال کر جائیں اور ایسے بچوں کو کسی بھی دوسری رضاعی ماں کا دودھ دستیاب نہ ہو، وہ تمام بچے جن کی مائیں زندہ ہوں اور اپنے بچوں کو دودھ پلاسکتی ہوں ان کو ڈبے کا دودھ پلانا ایک سنگین طبی غفلت اور انہیں اپنے ہاتھوں سے موت کے منہ میں دھکیلنےکے مترادف ہے۔
اسلام آبادمیں خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 60 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں لیکن ان میں سے صرف 2 ہزار سے بھی کم نوزائیدہ ایسے ہوتے ہیں جنہیں ماں کے دودھ کے بجائے متبادل دودھ کی حقیقی طبی ضرورت ہوتی ہے۔ماہرین صحت کے مطابق یہ وہ بچے ہوتے ہیں جن کی مائیں زچگی کے دوران انتقال کر جائیں، شدید بیماری میں مبتلا ہوں یا جنہیں نایاب میٹابولک امراض لاحق ہوں۔س کے باوجود ملک میں ہر سال 110 ارب روپے سے زائد کا فارمولا دودھ اور بچوں کی تیار شدہ غذا استعمال ہو رہی ہے جو کہ ایک تشویشناک رجحان اور غیر ضروری خرچ ہے۔
جمائمہ خان کی والدہ کے انتقال پر عمران خان کا اظہار افسوس
ماہرین صحت کے مطابق نوزائیدہ بچوں کی اصل طبی ضرورت اور فارمولا دودھ کے بڑھتے ہوئے استعمال میں بڑا فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بین الاقوامی کمپنیوں کی جارحانہ اور غیر اخلاقی مارکیٹنگ پاکستان میں ماں کے دودھ کے کلچر کو کمزور کر رہی ہے۔وسری جانب فارمولا دودھ کی صنعت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو زیادہ تر اسپتالوں میں تشہیر، ہیلتھ ورکرز کو دیے جانے والے تحائف اور ایسی پروموشن کی بنیاد پر ہے جو ماؤں کو گمراہ کرتی ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں ماں کا دودھ نہ پلانے کی وجہ سے ہر سال ملک کو تقریباً 2.
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی امریکی صدر ٹرمپ سے اہم ترین ملاقات
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی تقریباً 50 فیصد وجہ ناقص یا ناکافی دودھ پلانا ہے، خاص طور پر ڈبے کا دودھ اسہال اور نمونیا جیسی بیماریوں کو جنم دیتا ہے جو ہر سال لگ بھگ ایک لاکھ نوزائیدہ بچوں کی جان لے لیتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ماں کا دودھ نہ صرف مکمل غذا ہے بلکہ اس میں وہ قدرتی اجزاء، مدافعتی سیلز، اور خامرے (enzymes) موجود ہوتے ہیں جو کسی اور غذا میں نہیں پائے جاتے۔اس کے برعکس فارمولا دودھ میں وہ صلاحیت نہیں ہوتی اور اس کے استعمال میں صفائی کی کمی، غلط تیاری یا حد سے زیادہ خوراک جیسے مسائل بچوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ ماں کا دودھ ہر بچے کی انفرادی ضرورت کے مطابق وقت کے ساتھ بدلتا ہے، جب کہ فارمولا دودھ ایک جیسا ہوتا ہے، جو تمام بچوں کے لیے یکساں مؤثر نہیں ہوتا۔
محمد رضوان کو کپتانی سے ہٹانے کی وجوہات سامنے آگئیں
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: فارمولا دودھ صحت کے مطابق پاکستان میں بریسٹ فیڈنگ ماں کا دودھ ہوتے ہیں بچوں کی کا کہنا کے لیے ہر سال رہا ہے
پڑھیں:
مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے انسانی و مکینل وسائل بروئے کار لانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراج پر نہانے پر پابندی یقینی بنائی جائے اور دریاؤں، ڈیموں اور بیراج کی ڈرون سے مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بارش اور فلڈ سے آگاہ کرنے کے لیے مساجد اور میڈیا پر اعلانات کیے جائیں۔کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر مریم نواز نے لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نوٹس لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھمبوں پر بجلی کے بے ہنگم لٹکتے تار انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واسا کمپلینٹ ہیلپ لائن پر فوری ایکشن کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔مریم نواز نے مون سون کے دوران ہر کنسٹرکشن سائٹ کو باقاعدہ محفوظ بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ انتظامیہ خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لے کر رضاکارانہ طور پر خالی کروائے۔