Express News:
2026-07-24@07:26:47 GMT

پاک افغان تنازعہ اور سمجھوتہ

اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT

پاکستان اور افغانستان کے درمیان چپقلش یا تنازعے کے تاریخی پسِ منظر میں ڈیورنڈ لائن کا بہت ذکر آتا ہے، تو قارئین کے ذہن میں رہے کہ جب پورے ہندوستان پرانگریزوں کی حکومت تھی اور عملی طور پر کابل کے حکمران بھی وہی تھے، اُس وقت انھوں نے افغانستان کو دوسری Princely states کی طرح خودمختاری دی ہوئی تھی مگر افغانستان کا حکمران امیر عبدالرحمن انگریز حکمرانوں سے وظیفہ لیتا تھا۔

افغانستان اور برٹش انڈیا کے درمیان سرحدی معاملات کو ہمیشہ کے لیے طے کرنے کے لیے 1893میں افغانستان اور ہندوستان کی برطانوی حکومت کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس پر افغانستان کے حکمران امیر عبدالرحمن نے اور انگریز حکومت کی طرف سے انڈین سول سروس کے ایک سفارتکار سر مور ٹائمر ڈیورنڈ نے دستخط کیے، جس کے تحت 2640 کلومیٹر لمبی سرحد پر لکیر کھینچ دی گئی جس نے افغانستان اور اُس وقت کے ہندوستان (یا بعد میں پاکستان) کے درمیان باؤنڈری یا سرحد کا معاملہ ہمیشہ کے لیے طے کردیا، اس سرحدی لکیر کو ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے۔

اس معاہدے کے چند روز بعد امیر عبدالرحمن نے کابل میں گرینڈ جرگہ منعقد کیا جس میں پورے افغانستان سے چار سو سے زیادہ اکابرین اور اعلیٰ حکام شریک ہوئے، جنھوں نے اس معاہدے کی توثیق کردی، یعنی ڈیورنڈ لائن کومستقل سرحد کے طور پر تسلیم کرلیا۔ امیر عبدالرحمن کے بعد اس کے بیٹے حکمران رہے مگر انھوں نے بھی ڈیورنڈ لائن کو کبھی متنازعہ بنانے کی کوشش نہیں کی۔1947 تک یعنی قیامِ پاکستان تک سرحد کے بارے میں کوئی تنازعہ پیدا نہیں ہواکیونکہ عالمی قوّتوں نے بھی اسے مستقل سرحد کے طور پر تسلیم کیا ہوا ہے۔

افغانستان کی حکومت نے بھی اس پر کبھی اعتراض نہیں کیاتھا مگر قیامِ پاکستان کے فوراً بعد (بھارت کے ایماء پر) افغانستان نے پاکستان کے خلاف چھیڑ چھاڑ شروع کردی۔ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ پوری دنیا میں افغانستان مسلم برادر اور ہمسایہ ہونے کے باوجود، واحد ملک ہے جس کے نمایندے حسین عزیز نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے خلاف ووٹ دیا۔

بات وہاں رک نہیں گئی بھارت مسلسل افغان حکمرانوں کو پاکستان کے خلاف اکساتا رہا اور وہ استعمال ہوتے رہے۔ افغان حکمران بھی دل سے اسے مستقل سرحد مانتے ہیں مگر کبھی کبھی شرارتاً یا بھارت کے اُکسانے پر ایسا شوشہ چھوڑ دیتے ہیں کہ ہم ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتے اور یہ کہ ہماری سرحد تو اٹک تک جاتی ہے۔ ہندوستان یا برٹش انڈیا کی بھی کبھی کابل تک حکمرانی تھی مگر ہم نے تو کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ کابل تک کا علاقہ ہمارا ہے۔

اگر ریکارڈ دیکھیں تو افغانستان کے حکمرانوں کے کھاتے میں زیادتیوں اور جرائم کا ایک لامتناہی سلسلہ نکلے گا جب کہ پاکستان کے دامن میں محبّت، ایثار، قربانیوں اور انھی کے ہاتھوں کھائے ہوئے زخموں کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد بھارت ہی کی شہ پر سابق صوبۂ سرحد کی کانگریس پارٹی نے پختونستان کا شوشہ چھوڑا جسے افغان حکومت پوری طرح سپورٹ کرتی رہی۔ پھر پاکستان بننے کے چند سالوں بعد دِیر کی طرف سے پاکستان پر حملہ کردیا،جو پسپا کر دیا گیا۔

اس کے بعد 1961 میں پندرہ ہزار مسلّح افغانوں نے باجوڑ یعنی ریاستِ پاکستان پر حملہ کردیا، اسے بھی کچھ دنوں بعد پسپا کردیا گیا۔ اس کے بعد بھی بدقسمتی سے افغان حکمرانوں کی تاریخ معاندانہ کاروائیوں سے بھری پڑی ہے۔ ریاستِ پاکستان کے ہر مخالف اور ہر باغی کو افغانستان میں پناہ دی گئی۔ جنرل شیروف اور خیر بخش مری کئی سالوں تک افغانستان میں رہے۔ پاکستان کا طیّارہ اغواء کرنے والے الذوالفقار کے باغیوں اور دہشت گردوں کو بھی افغانستان میں ہی امان ملی اور وہیں ان کو کئی سالوں تک پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کی ٹریننگ دی جاتی رہی۔ اس کے برعکس جب روس نے افغانستان کی آزادی چھین لی اور اس پر قبضہ کرلیا تو پاکستان نے افغانوں کی آزادی کے لیے ان کے شانہ بشانہ جنگ لڑی جس میں بیشمار پاکستانی نوجوان شہید ہوئے۔

روسی قبضے کے بعد جب لاکھوں افغان اپنا گھر بار چھوڑ کو پاکستان کے اندر آگئے تو پاکستان نے ان کے لیے تنگ دلی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے اپنے دل اور دامن کھول دیے اور پچاس سال تک لاکھوں افغانوں کی میزبانی کی۔ اس قربانی کے باعث ہمیں کیا ملا؟ ہماری کمزور معیشت پر بے تحاشا بوجھ پڑا، ہمیں ہیروئن اور کلاشنکوف جیسے آٹومیٹک ہتھیاروں کے ’’خطرناک‘‘ تحفے موصول ہوئے جس نے نوجوان نسل کی رگوں میں زہر بھردیا اور سنگین جرائم میں بے پناہ اضافہ کیا۔ ہم نے افغانوں کی محبّت میں بہت کچھ کھویا، بہت سے عالمی دوست کھودیے اور بہت سوں کے طعنے اور تنقید کئی سالوں سے سن رہے ہیں۔

افغان حکمرانوں کا طرزِ عمل دیکھ کر ہمارے کئی رائٹر اور تجزیہ نگار دوسری انتہا پر چلے جاتے ہیں اور افغانستان کی جانب سے آنے والے احمد شاہ ابدالی اور محمود غزنوی سمیت تمام حملہ آوروں کو ڈاکو اور لٹیرا قرار دینے لگتے ہیں، غالباً وہ کم علمی کی وجہ سے اس نقطۂ نظر کو فروغ دے رہے ہیں جو مودی اور اس کے ہمنواؤں کا نظریہ ہے۔ ہمیں اس حد تک ہرگز نہیں جانا چاہیے۔ مگر پاکستان کے ساتھ ان کا رویّہ دیکھ کر آج چارہ کاٹنے والے ان پڑھ دیہاتی بھی ان کے بارے میں یہی کہہ رہے ہیں کہ افغانستان کے طالبان سے بڑا احسان فراموش آج تک دیکھنے میں نہیں آیا۔ اب تو یہ بھی ثابت ہوگیا ہے کہ اسلام کا تو صرف لبادہ ہے ورنہ اسلامی شعائر کی کھلم کھلا پامالی جس طرح افغانی طالبان کررہے ہیں دنیا کے کسی اسلامی ملک میں ایسا نہیں ہورہا۔

اگر انھیں اسلام سے ذرا بھی محبّت ہوتی تو وہ لوگوں کو خودکشی (جو اسلام میں حرام ہے) کے راستے پر ہرگز نہ لگاتے؟ اگر ان کی اسلام کے ساتھ وابستگی ہوتی تو وہ پاکستان کی فوج اور پولیس کے پابندِ صوم وصلٰوۃ افسروں اور جوانوں پر کیوں حملے کرتے اور ان کا خون کیوں بہاتے؟ اگر وہ اسلامی جذبے سے سرشار ہوتے تو وہ معصوم اور بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانے والے اسرائیل کے خلاف غم وغصّے کا اظہار کرتے، وہاں جاکر جہاد کرنے کی بات کرتے، یا کبھی کسی اسرائیلی فوجی پر حملہ کرتے۔ مگر ایسا تو کبھی نہیں ہوا۔

انھوں نے کبھی کسی اسرائیلی فوجی پر حملہ نہیں کیا۔ اگر انھیں واقعی اسلام سے محبّت ہوتی تو وہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہندوتوا کے علمبردار اور بھارت میں مسلمانوں کی زندگی، عذاب بنا دینے والے بھارتی حکمرانوں کی گود میں جاکر نہ بیٹھتے۔ کیا انھوں نے کبھی بے گناہ کشمیری مسلمانوں پر ظلم کرنے والی بھارتی فوج کے خلاف خودکش حملے کیے ہیں؟ ہر گز نہیں۔ ان کے حملوں کا نشانہ لاکھوں افغانوں کو قتل کرنے والے روسی یا ان کی اینٹ سے اینٹ بجادینے والی امریکی تو کبھی نہیں بنے، آخر ان کے حملوں کا نشانہ اسلام کے پیروکار، نماز روزے کے پابند اور ہر روز قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے مسلمان فوجی ہی کیوں بن رہے ہیں؟

 پاکستان اور افغانستان کے درمیان 13 گھنٹوں کے طویل مذاکرات کے بعد جنگ بند ہوگئی ہے اور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدہ طے پاگیا ہے جو خوش آیند ہے اس پر دونوں ممالک کے عوام اور دنیا بھر میں ان کے خیرخواہ خوش ہیں۔ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان امن قائم ہونے سے اگر کوئی ناراض ہے تو یقینی طور پر ہمارا دشمن بھارت ہے جو مئی میں ہم سے شکست کھانے کے بعد سے تلملا رہا تھا اور اس کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے بے تحاشا پیسہ لگارہا ہے، وہ اسی سلسلے میں اب افغانستان کو استعمال کررہا تھا۔ پاکستان کے نقطۂ نظر سے معاہدے کی شق نمبر 2 سب سے اہم ہے جو دہشت گردی سے متعلق ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ افغانستان کسی بھی عسکریّت پسند گروہ کو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان جا کر دہشت گردی کی کاروائیاں کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ افغان طالبان پر اعتبار کرنا مشکل ہے کیونکہ ماضی میں انھوں نے کسی وعدے کا پاس نہیں کیا۔ مگر اس ضمن میں سب سے اطمینان بخش بات یہ ہے کہ ترکی جیسا خیرخواہ اور مخلص دوست اور برادر اسلامی مسلم اور قطر جیسا خیر خواہ معاہدے کرانے والوں اور گارنٹرز میں شامل ہے، اللہ کرے کہ افغان طالبان اس پر نیک نیّتی اور اخلاص کے ساتھ عمل درآمد کریں۔ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارت ہے جو ہر طریقے سے پاکستان میں دہشت گردی کی ہر قسم کی کاروائیوں کو سپانسر اور سپورٹ کررہا ہے، وہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے ذریعے پاکستان میں سیکیوریٹی فورسز پر حملے کراکے اپنی ہزیمت کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔

 ہمارے عظیم شاعر اور امّت کے حکیم اقبالؒ کے دل میں افغانستان کی بے پناہ عزّت وتکریم تھی، وہ افغانستان کو ایشیا کا دل (قلبِ آسیا) قرار دیتے تھے۔ اللہ کرے کہ افغانستان کے موجودہ حکمران اپنی غلطیوں کا ادراک کریں اور اس علاقے میں امن قائم کرنے کے لیے قلبِ ایشیا کا قلب پوری طرح صاف ہوجائے۔ کیا ایسا ہوجائے گا؟ یہ اگلی نشست میں  (جاری ہے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امیر عبدالرحمن افغانستان کی افغان حکمران افغانستان کے ڈیورنڈ لائن پاکستان میں پاکستان کے سے پاکستان کے درمیان اور افغان انھوں نے کہ افغان نہیں کیا رہے ہیں نے والے پر حملہ کے خلاف نہیں کی کے لیے اور اس کے بعد

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا