حکومت کی جانب سے ایک بار پھر شوگر ملز کے مفادات کا تحفظ، کاشتکار نظر انداز
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
اسلام آباد:
حکومت کی جانب سے ایک بار پھر شوگر ملز کے مفادات کا تحفظ کیا جا رہا ہے جب کہ کاشتکار نظر انداز ہو رہے ہیں۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے قومی اسمبلی کی قائمہ برائے غذائی تحفظ کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ شوگر ملوں پر کرشنگ شروع کرنے کے حوالے سے دباؤ نہیں ڈالیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جس مل کو جب مناسب لگے وہ کرشنگ شروع کر سکتی ہے۔ ملز نومبر کے پہلے ہفتے چلائیں یا 20 نومبر کو یہ ان کی مرضی ہے۔ پچھلے سال گنے کی 400 سے 700 روپے فی من قیمت تھی۔ آئی ایم ایف معاہدے کے تحت ہم گنے کی قیمت فکس نہیں کر سکتے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پنجاب میں یکم نومبر تک گنے کی فصل تیار ہو جائے گی۔ شوگر ملز کی کوشش ہوتی ہے کہ ہم لیٹ ملیں چلائیں، جس ان کی ریکوری اچھی ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت اور شوگر ملز کے درمیان نومبر کے پہلے ہفتے کرشنگ کا معاہدہ ہوا تھا، جس پر وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر نے دستخط کیے تھے۔
وفاقی حکومت نے مکمل طور پر شوگر ملز کے مفاد کو تحفظ دے دیا تھا جب کہ لیٹ کرشنگ شروع ہونے سے گنے کے کاشتکاروں کو ہمیشہ بھاری نقصان ہوتا ہے۔ لیٹ کرشنگ شروع ہونے سے کاشتکار اگلی فصل بھی بروقت نہیں اُگا سکتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شوگر ملز کے
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔