WE News:
2026-07-24@03:00:18 GMT

افغانستان میں بھارت کی اسٹریٹیجک ڈیپتھ

اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT

جو حضرات پاکستان کے اسٹریٹیجک ڈیپتھ کے تصور کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے کیا انہیں افغانستان میں بھارت کے اسٹریٹیجک ڈیپتھ کا آزار دکھائی دے رہا ہے؟

بھارت افغان تعلقات کی بنیاد کیا ہے؟ اس کا سادہ سا جواب ہے: پاکستان دشمنی۔

 بھارت صرف یہ چاہتا ہے پاکستان کو بیچ میں سینڈ وچ بنا لیا جائے۔ ایک طرف مشرق میں بھارت ہو اور دوسری جانب مغرب میں افغانستان میں ایک پاکستان مخالف حکومت ہو اور پاکستان کو دونوں اطراف سے انگیج کر لیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ’عمران خان ہی ریاست ہیں‘

بھارت کا یہ کھیل پہلے دن سے جاری ہے  تقسیم ہندوستان کے وقت صوبہ  سرحد نے بھارت کی بجائے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو کانگریس ہی کی ایما پر ایک طرف پشتونستان کا نعرہ بلند کیا گیا اور دوسری جانب افغانستان سے رابطے کیے گئے کہ وہ شمال مغربی سرحدی صوبے پر اپنا حق جتائے۔

ڈیورنڈ لائن کے بیانیے کا ایک سیاق سباق یہ بھی ہے چنانچہ افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے پہلے مرحلے میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے خلاف ووٹ دیا۔ ( جو بعد میں اگر چہ واپس لے لیا گیا۔)

ایک طویل عرصہ بھارت نے افغانستان سے پاکستان کے لیے مسائل پیدا کیے رکھے۔ پاکستان مخالف تحریکیں چلیں اوور بھارت  اور افغان حکومتوں نے ان کی مکمل سرپرستی کی۔ بھارت کی اسٹریٹیجک ڈیپتھ کا کھیل چلتا رہا۔

بھارت کی سہولت کاری سے افغان وزیر اعظم ہاشم خان کی سرپرستی میں پشتون زلمے قائم ہوئی۔ منصوبہ یہ تھا کہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی یہ زلمے گڑ بڑ پھیلائے گی اور افغان فوج پاکستان پر حملہ کر دے گی۔

 بھارت میں افغانستان کے سفیر سردار نجیب اللہ  تھے۔ انہوں نے کہا بس آج کل میں قبائلی عوام اٹھ کھڑے ہوں گے اور اپنی مرکزی اسمبلی کا انتخاب کر کے حکومت قائم کر لیں گے۔

افغان وزیر اعظم داؤد خان نے تو پاکستان میں بغاوت کے لیے باقاعدہ ایک وزارت قائم کی اور اس معاملے میں ان کی دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ وزیر اعظم ہوتے بھی اس کا قلمدان خود سنبھالا۔

مزید پڑھیے: بیت اللہ سے

قیام پاکستانن کے ابتدائی دنوں میں بھارت کی قیادت جو یہ کہہ رہی تھی کہ پاکستان جلد ہی ختم ہو جائے گا اور پھر سے بھارت میں شامل ہو جائے گا تو اس منصوبے میں صرف بھارت کی قیادت شامل نہیں تھی، افغان قیادت بھی اس کے ساتھ تھی۔ آپ اسے بھارت کی اسٹریٹیجک ڈیپتھ کہہ سکتے ہیں۔

پاکستانن کا اسٹریٹجک ڈیپتھ کا تصور صرف یہ تھا کہ بھارت اس منصوبے میں کامیاب نہ ہو۔  ایسا ہر گز نہیں  تھا کہ پاکستان نے افغانستان پر قبضہ کرنا تھا یا اس نے بھارتی حملے کے جواب میں افغانستان کی تزویراتی گہرائی میں جا کر جواب دینا تھا۔ یہ تصور صرف اتنا تھا کہ افغانستان میں پاکستان دوست حکومت رہے ۔

پاکستان  کے ایک جانب 2912 کلومیٹر پرر بھارت بیٹھا ہے۔ اور دوسری جانب 2640 کلومیٹر پر افغانستان بیٹھا ہے۔ اگر دونوں طرف دشمنی ہو تو پاکستان سینڈوچ بن جاتا ہے۔ اسی چیز سے بچنے کے لیے پاکستان نے ہر ممکن کوشش کی لیکن جب پانی سر سے اونچا ہونے لگا تو پاکستان نے بھی کھل کر جوابی کارروائی کر دی۔

اس وقت بھی بھارت اور افغانستان کے تعلق کی نوعیت وہی ہے جو قیام پاکستان کے وقت تھی۔ بھارت کب سے افغانستان کا دوست ہو گیا۔ وہ صرف اس چانکیائی فارمولے پر عمل پیرا ہے کہ دشمن کے پڑوسی کو دوست بنا کررکھو۔ اس دوستی میں افغانستان صرف استعمال ہو گا اس ملے گا کچھ نہیں۔

بین الاقوامی پابندیوں اور جٖغرافیائی مسائل کی وجہ سے بھارت ایک حد سے افغانستان کو کچھ نہیں دے سکتا۔ نہ عسکری طور پر، نہ معاشی طور پر۔ افغانستان کا فروٹ سیدھا پاکستان کی منڈیوں تک آتا ہے، اب اگر کوئی اسے چاہ بہار کے راستے بھارت  کا طویل سفر کرنا چاہتا ہے تو کر کے دیکھ لے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ امن فارمولا : کون کہاں کھڑا ہے؟

افغانستان میں دریائے کابل اور کنڑ پر ڈیموں میں بلاشبہ بھارت نے فنٖڈز دیے ہیں لیکن یہ بھی عملا ایک تزویراتی سرگرمی ہے اور اس کا مقصد پاکستان کو جانے والے پانی کو کم کرنا ہے۔ یعنی جو آبی جارحیت بھارت نے پاکستان کے خلاف خوود کی ہے ویسا ہی کام وہ افغانستان سے بھی کروانا چاہتا ہے۔

بھارت کے ساتھ اشتراک کار میں افغانستان کے لیے کچھ خاص نہیں ہے سوائے اس کے وہ بھارت کی پراکسی کے لیے سازگار زمین فراہم کرے۔ اس کے براہ راست معاشی مفادات پاکستان سے وابستہ ہیں۔

پاکستان افغان امپورٹس کا سب سے بڑا ٹرانزٹ روٹ بھی ہے۔ اس کا حجم قریب 60 فیصد ہے۔ ان امکانات کو نظر انداز کر بھارت کی اسٹریٹیجک ڈیپتھ کا ایندھن بن جانا افغانستان کے خسارے کا سودا ہی ہو گا۔

 لیکن یہاں وہ وقت بھی ہم نے دیکھا کہ ابھی ماضی قریب میں ہی افغانستان نے پاکستان کے ساتھ تجارتی بات چیت یہ کہہ کر معطل کر دی کہ اس میں جب تک بھارت کو بھی شامل نہیں کیا جاتا ہم کوئی بات نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے: مریم نواز یا علی امین گنڈا پور

یہ جو دوحہ معاہدہ کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی افغان قیادت نے ڈیرنڈ لائن  کا سہرا کہنا شروع کر دیا ہے یہ طرز عمل بتا رہا  ہے کہ امن معاہدے کی مدت بھی طویل نہیں ہو گی۔

بھارت اپنی اسٹریٹیجک ڈیپتھ کو مزید بڑھائے گا اور پاکستاان اس صورت حال سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ معاملات بہتر نہ ہوئے تو منظر نامے میں کافی کچھ تبدیل ہو سکتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

اسٹریٹیجک ڈیپتھ افغانستان بھارت بھارت اور افغانستان کی پینگیں پاک افغان کشیدگی پاکستان ڈیورنڈ لائن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان بھارت پاک افغان کشیدگی پاکستان ڈیورنڈ لائن میں افغانستان افغانستان میں افغانستان کے پاکستان کے اور افغان میں بھارت کے ساتھ کے لیے یہ بھی تھا کہ

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف