Express News:
2026-06-03@02:38:55 GMT

پاکستان اور افغانستان میں عارضی سیز فائر

اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT

پاکستان اور افغانستان کے درمیان قطر میں ایک سیز فائر معاہدہ ہوا ہے۔ ایک سوال سب کے ذہن میں ہے کہ کیا یہ سیز فائر چلے گا۔ ایک عمومی رائے یہی ہے کہ یہ سیز فائر نہیں چلے گا۔ کیونکہ پاکستان میں اگر ایک بھی دہشت گردی کا واقعہ ہوگیا تو جواب میں پاکستان افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کرے گا۔

اب سادہ بات یہی ہے کہ یہ سیز فائر تب تک ہی قائم ہے جب تک پاکستان میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ نہ ہو۔ یہ کافی مشکل نظر آتا ہے۔ بھارت چاہے گا کہ دہشت گردی جاری رہے۔ اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ دہشت گردی مکمل ختم ہو سکے گی۔ کم ضرور ہو سکتی ہے لیکن فوری ختم ہونا کافی ناممکن نظر آتا ہے۔

میں اس سیز فائر کو اس لیے بھی عارضی سمجھتا ہوں کیونکہ دوحا میں پاکستان نے ٹرانزٹ ٹریڈ کھولنے کا کوئی اعلان نہیں کیا۔ تا دم تحریر وہ معطل ہے، بارڈر بند ہیں، ٹرانزٹ ٹریڈ معطل ہے۔ اگر مکمل امن معاہدہ ہو جاتا تو یقیناً افغان حکومت کہتی کہ تجارت کھولی جائے، وہ تجارت بند کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ اسی طرح ویزہ بھی بند ہیں، جن چوکیوں پر پاکستان نے قبضہ کیا ہے، وہ بھی پاکستان کے قبضہ میں ہیں۔ اس لیے سیز فائر عارضی ہے، ابھی معاملات طے ہونا باقی ہیں۔

بھارت میں آر ایس ایس کی سو سالہ تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے راج ناتھ نے کہا ہے کہ بھارت نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کروا دی ہے۔ یہ جنگ بھارت کے مفاد میں ہے۔ جیسے جیسے جنگ بڑھے گی پاکستان کمزور ہوگا، افغانستان بھی کمزور ہو گا دونوں باتیں بھارت کے مفاد میں ہیں۔

اس لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ شروع کروا کر نریندر مودی نے ماسٹر اسٹروک کھیلا ہے۔ میں سمجھتا ہوں راج ناتھ بھارت کے عوام کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ بھارت افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی جاری رکھنا چاہتا ہے۔ جنگ اس کے اسکرپٹ میں نہیں ہے۔ بھارت جنگ سے خوش نہیں ہوگا ۔ کیونکہ جنگ سے بھارت کو معلوم ہے کہ اس کے پراکسی دہشت گردی کو نقصان ہوگا۔

یہ بات درست ہے کہ افغان طالبان پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔وہ بھارت کو پاکستان میں دہشت گردی کا نیٹ ورک چلانے کا موقع دے رہے ہیں، وہ دہشت گرد تنظیموں کو بھارت کے ہاتھ میں کھیلنے اور بھارت کو پاکستان میں پراکسی نیٹ ورک چلانے کا موقع دے رہے ہیں۔ وہ دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ ٹھکانے دے رہے ہیں۔افغان حکومت اس سارے عمل سے انکاری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی زمین سے کچھ نہیں ہو رہا ۔ لیکن یہ کوئی مان نہیں رہا۔ یہ حقیقت ساری دنیا کو معلوم ہے، اس لیے افغان حکام کا موقف دنیا میں کوئی بھی نہیں مان رہا۔

میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ لمبی جنگ نہیں کرنی چاہیے۔ لمبی جنگ کا پاکستان کو نقصان ہے، اس لیے جو بھی کرنا ہے فوری کرنا ہے۔ جیسے بھارت کے ساتھ جنگ چند گھنٹوں میں ختم ہو گئی تھی۔ ایسے ہی افغانستان کے ساتھ بھی ایسی حکمت علمی بنانا ہوگی کہ جنگ چند گھنٹوں نہیں تو دنوں میں ضرور ختم ہو جائے۔ اب جب سیز فائر ختم ہو تو پھر کام جلد نبٹانا ہو گا۔ لمبی جنگ دشمن کے فائدے میں ہے۔ ہمیں تو جلد نتائج چاہیے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں اب تک پاکستان نے جس ضبط کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ آگے نہیں ہوگا۔ یہ بات افغانستان پر واضع کر دی گئی ہے۔

آپ سوال کر سکتے ہیں کہ کیسے۔ ہم نے ابھی تک افغانستان کے خلاف کسی بڑے ہتھیار کا استعمال نہیں کیا ہے۔ ہم نے کوئی بڑے میزائیل نہیں مارے ہیں۔ بھارت کے خلاف الفتح میزائیل استعمال کیے گئے تھے۔ افغانستان کے خلاف وہ بھی استعمال نہیں کیے گئے۔ حالانکہ پاکستان کے پاس الفتح سے بھی بڑے میزائیل موجود ہیں۔ میں نیوکلیئر کی بات نہیں کر رہا ہے۔ ہم نے فضائی بمباری بھی محدود کی ہے۔ ہم پورے افغانستان پر ایک وقت میں بمباری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم نے ایسا نہیں کیا ہے۔

ایک تنازعہ جس کی طرف کافی توجہ ہے وہ لفظ بارڈر پر ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ مذاکرات کے دوران بھی ایک موقع پر افغان وفد نے یہ موقف لیا تھا کہ ہم ڈیورنڈ لائن کو باقاعدہ بارڈر نہیں مانتے۔ جس پر پاکستان نے کہا کہ چلیں فرض کر لیں ہم بھی نہیں مانتے۔ پھر کوئی بارڈر نہیں۔ آپ کیسے کہتے ہیں کہ ہم نے آپ کے علاقہ پر بمباری کی ہے۔ ہم نے تو اپنے ہی علاقہ پر بمباری کی ہے۔ آپ کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

جس پر افغان وفد خاموش ہوگیا۔ انھیں اندازہ ہوگیا کہ جب تک بارڈر نہیں ہوگا بارڈر کی خلاف ورزی کا جواز بھی نہیں ہوگا۔ جہاں تک اعلامیہ میں پہلے بارڈر لفظ شامل ہونے اور پھر نکالنے کی بات ہے تو اس کی دونوں طرف کی اپنی اپنی توجیحات ہیں۔ پاکستان کا موقف ہے کہ جب کوئی بارڈر کا تنازعہ ہے ہی نہیں تو اعلامیہ میں لفظ بارڈر کیوں لکھا جائے۔ دہشت گردی کا تنازعہ ہے، وہ موجود ہے۔ افغانستا ن کا موقف ہے کہ وہ بارڈر کو نہیں مانتے اس لیے لفظ بارڈر نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں یہ کوئی اہم بات نہیں۔ بارڈر موجود ہے۔ باڑ لگ چکی ہے۔ دونوں ممالک اپنی حدود میں رہتے ہیں۔ ایسا کوئی تنازعہ نہیں۔ یہ صرف عوام کو بیوقوف بنانے والی بات ہے۔

ایک سوال سب پوچھ رہے ہیں کہ افغان طالبان کا بھارت کی طرف جھکاؤ کیوں؟ کئی سال وہ ہمارے دوست رہے اب بھارت کی گود میں کیوں بیٹھ گئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں یہ مفاد کا کھیل ہے۔ ماضی کے احسانات کو کوئی یاد نہیں رکھتا۔ آج مفاد بھارت کے ساتھ ہے۔ بھارت پیسے دے رہا ہے اور کچھ نہیں۔

تحریک انصاف کا موقف ہے کہ ہم تو پہلے دن سے افغانستان کے ساتھ معاملات بات چیت سے حل کرنے کے حق میں ہیں۔ اب بھی تو بات چیت ہی ہوئی ہے۔ یہ ہمارے موقف کی فتح ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ درست بات نہیں۔ بات چیت امن سے نہیں ہوئی ہے۔ جنگ سے ہوئی ہے۔ دونوں میں بہت فرق ہے۔

جنگ کے بعد بات چیت کو امن کی بات چیت کے برابر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس فرق کا کم از کم افغانستان کو علم ہو گیا ہے۔ یہ کافی ہے۔ افغانستان کو یہ بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ یہ سیز فائر کافی قیمتی ہے۔ اس کے بعد کافی تباہی ہوگی اور ان کے پاس جنگ کی کوئی تیاری نہیں۔ پاکستان کے ہتھیاروں کا کوئی جواب نہیں۔ اب ایک طرف پاکستان کے میزائیل ہیں، دوسری طرف بھارت کے پیسے ہیں۔ افغان طالبان درمیان میں ہیں۔ جائیں تو کہاں جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان میں دہشت گردی میں سمجھتا ہوں افغانستان کے دہشت گردی کا یہ سیز فائر پاکستان نے بارڈر نہیں نہیں ہوگا بھارت کے بات چیت رہے ہیں میں ہیں نہیں ہو کا موقف کے ساتھ ختم ہو ہیں کہ اس لیے کیا ہے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی